نئی دہلی کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا باب: ریکھا گپتا کی شمولیت
نئی دہلی: بی جے پی کی رہنما ریکھا گپتا نے 8 فروری کو دہلی کی وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا ہے، جو کہ بھارتی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے۔ یہ تقریب رام لیلا میدان میں منعقد ہوئی، جہاں لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے انہیں عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ اس تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی، این ڈی اے کے زیر اقتدار ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور نائب وزرائے اعلیٰ بھی موجود تھے۔
ریکھا گپتا کی حلف برداری میں ان کے ساتھ کابینہ کے وزراء نے بھی حلف لیا، جن میں پرویش ورما، آشیش سود، منجندر سنگھ سرسا، رویندر اندرراج، کپِل مشرا اور پنکج سنگھ شامل ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ریکھا گپتا نے دہلی کی شالی مار باغ سیٹ سے پہلی بار ایم ایل اے منتخب ہونے کے بعد یہ عہدہ سنبھالا ہے، جہاں انہوں نے عام آدمی پارٹی کی بندنا کماری کو 29,595 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دہلی کے عوام نے 8 فروری کو حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کا سامنا کیا۔ بی جے پی نے 26 سال کے بعد تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 70 میں سے 48 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جس کے مقابلے میں عام آدمی پارٹی 22 سیٹوں تک محدود رہی۔
سیاسی منظرنامہ اور ریکی گپتا کی ترجیحات
ریکھا گپتا نے اپنے حلف برداری کے بعد ایک بڑی امید کو جنم دیا ہے کہ ان کی حکومت اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کو ہر حال میں پورا کرے گی۔ حلف اٹھانے سے قبل انہوں نے مرگھٹ ہنومان مندر جا کر آشیرواد لیا، جو کہ ایک روایتی عمل ہے جسے عوامی قیادت کی جانب سے اہمیت دی جاتی ہے۔
ریکھا گپتا نے اپنے خطاب میں کہا، "وزیر اعظم مودی نے دہلی کے عوام کے لیے جو وژن دیا ہے، اسے پورا کرنا میری اولین ترجیح ہوگی۔” انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ ان کی حکومت بدعنوانی میں ملوث افراد کو جوابدہ بنائے گی اور عوام کے ایک ایک پیسے کا حساب لیا جائے گا۔ یہ وعدے ان کی حکومت کی شفافیت اور احتساب کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ، ریکھا گپتا نے خواتین کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دینے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا، "ہم نے اپنی بہنوں سے جو وعدے کیے ہیں، انہیں ہر قیمت پر پورا کیا جائے گا۔” اس بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کی حکومت کا مقصد خواتین کے حقوق اور معاشرتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
تقریب کا اہتمام اور اسٹیج کی ترتیب
حلف برداری کی تقریب کے لیے تین الگ الگ اسٹیج تیار کیے گئے تھے۔ مرکزی اسٹیج پر وزیر اعظم نریندر مودی، لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ، نامزد وزیر اعلیٰ اور ان کی کابینہ کے اراکین موجود تھے۔ دوسرے اسٹیج پر مذہبی رہنما اور معزز مہمان موجود تھے، جبکہ تیسرے اسٹیج پر موسیقی کے پروگرام سے وابستہ فنکاروں کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔ یہ مختلف اسٹیج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس تقریب کو شاندار بنانے کے لیے کس قدر محنت کی گئی ہے۔
ریکھا گپتا کی شمولیت سے دہلی کی سیاسی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔ ان کی قیادت کا آغاز بی جے پی کے لیے ایک نیا موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ دہلی میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کر سکے۔
عوامی توقعات اور چیلنجز
عوام کی توقعات کے ساتھ ساتھ ریکھا گپتا کو مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا۔ دہلی کی سیاست میں بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے درمیان ایک طویل عرصے سے جاری رقابت نے عوامی مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ریکھا گپتا کی حکومت کو یہ چیلنج درپیش ہوگا کہ وہ عوام کے مسائل کا حل کیسے نکالتا ہے اور کیا وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔
ریکھا گپتا کی قیادت میں، بی جے پی کی توجہ دہلی کے عوام کے مسائل، خاص طور پر صحت، تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں پر ہوگی۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ان کی حکومت کس طرح عوامی مسائل کو حل کرنے کے لئے عملی اقدامات کرتی ہے۔
مستقبل کی راہیں اور حکومتی منصوبے
ریکھا گپتا نے اپنی حکومت کی ترجیحات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو حل کرتے ہوئے ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کریں گی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی حکومت ایک متوازن ترقیاتی منصوبہ بندی کے ذریعے دہلی کو ایک ترقی یافتہ شہر بنانے کے لئے کوشاں ہوگی۔
ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

