موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سپریم کورٹ کی جانب سے لوک پال کے حکم پر پابندی، ہائی کورٹ کے ججوں کی جانچ میں ابہام

عدالتی کارروائی: کیا لوک پال ہائی کورٹ کے ججوں کی جانچ کر سکتا ہے؟

سپریم کورٹ نے حال ہی میں ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے لوک پال کے فریق سے متعلق ایک حکم پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ حکم خاص طور پر ہائی کورٹ کے موجودہ ججوں کے خلاف جانچ سے متعلق ہے، جس کے تحت لوک پال نے خود کو ان ججوں کی جانچ کرنے کا اختیار دیا تھا۔ عدالت نے اس فیصلے کو "بے حد پریشان کن” قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت اور لوک پال کے رجسٹرار کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔ اس صورتحال نے عدالت کی آزادی اور اس کے کام کرنے کے طریقے پر ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب لوک پال نے 27 جنوری 2023 کو ایک حکم جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ کے موجودہ ایڈیشنل ججز کے خلاف دو شکایتوں پر کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ ان شکایتوں میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ایک جج نے ایک نجی کمپنی کے حق میں فیصلہ دینے کے لئے دیگر ججز کو متاثر کیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ کمپنی اس جج کی موکل رہ چکی تھی جب وہ وکالت کر رہے تھے، جس نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

بنیادی سوال: کیا لوک پال کو عدالتوں کے ججوں کی جانچ کا اختیار ہے؟

عدالتی بنچ کی صدارت جسٹس بی آر گوئی نے کی، جنہوں نے فوری طور پر اس معاملے میں دخل دیا۔ بنچ میں شامل دیگر ججز، یعنی جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ابھے ایس اوکا نے شکایت کنندہ کو جج کا نام ظاہر کرنے سے روک دیا۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ اس معاملے سے متعلق تمام معلومات کو مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے۔ یہ سب کچھ عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لئے کیا جا رہا ہے۔

جیسا کہ اس معاملے پر قانونی بحث جاری ہے، ایک بنیادی سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا لوک پال، جو کہ بدعنوانی کے معاملات کی جانچ کے لئے قائم کیا گیا تھا، واقعی میں موجودہ ججوں کی جانچ کا اختیار رکھتا ہے یا نہیں؟ اس سوال کی قانونی حیثیت اب ملک کے آئینی ماہرین اور وکلاء کے درمیان بحث کا موضوع بن گئی ہے۔

عدلیہ کی آزادی: ایک اہم چیلنج

سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے نہ صرف ججوں کی جانچ کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا ہے بلکہ یہ عدلیہ کی آزادی کی حفاظت کے معاملے میں بھی ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ ججوں کی جانچ کے لئے کسی بھی خارجہ یا غیر عدالتی فورم کو اختیار نہیں دیا جا سکتا ہے، تاکہ عدلیہ میں موجودہ اداروں کی خود مختاری کو برقرار رکھا جا سکے۔

لوک پال کے اختیارات: قانونی سوالات

اب دیکھنا یہ ہے کہ لوک پال کے اختیارات کی قانونی حیثیت کیا ہے اور کیا وہ موجودہ ججوں کی جانچ کر سکتا ہے؟ لوک پال اور لوک آیکت قانون 2013 کے تحت بدعنوانی کے معاملات کی جانچ کا اختیار لوک پال کو دیا گیا ہے، مگر اس قانون کی حدود کیا ہیں، یہ ایک بڑا سوال ہے۔

ہنوز یہ بھی واضح نہیں کہ کیا لوک پال کی یہ کوششیں بدعنوانی کے خلاف جنگ میں کوئی موڑ دے سکیں گی یا نہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق، اگر لوک پال کو یہ اختیار دیا گیا تو یہ عدلیہ کے کام کرنے کے طریقے میں بڑی تبدیلیاں لا سکتا ہے، جو کہ کسی بھی صورت میں عدالتوں کی خود مختاری کے لئے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔

آنے والے دنوں میں ممکنہ اثرات

یہ معاملہ مستقبل میں عدلیہ اور لوک پال کے درمیان تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ جیسے جیسے یہ کیس عدالتوں میں آگے بڑھے گا، اس کے نتیجے میں ممکنہ قانونی تبدیلیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ اگر لوک پال کو ججوں کی جانچ کا اختیار ملتا ہے تو یہ بات یقینی طور پر عدلیہ کی خود مختاری میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔

مزید یہ کہ اس معاملے میں عوامی دلچسپی کی وجہ سے کئی سماجی اور سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ موجودہ حالات میں عوامی رائے بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے، کیونکہ لوگ چاہتے ہیں کہ عدلیہ کی آزادی کو برقرار رکھا جائے اور بدعنوانی کے خلاف موثر اقدامات کیے جائیں۔

سماجی ردعمل اور عوام کی رائے

یہ معاملہ نہ صرف قانونی حلقوں میں بلکہ عوام میں بھی بہت زیادہ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ عوامی وکلا اور حقوق انسانی کے کارکنان نے اس فیصلے کو سراہا ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے لوک پال کے اختیارات کو بڑھانے کی حمایت کی ہے تاکہ بدعنوانی کے واقعات کی بیخ کنی کی جا سکے۔ عوامی سطح پر جاری بحث نے اس مسئلے کو ایک نیا رخ دیا ہے، جس کا اثر ممکنہ طور پر آئندہ عدالتی فیصلوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔

جیسے جیسے یہ معاملہ قانون کی کتب میں درج ہوتا جائے گا، اس کے مضمرات پر غور کرنا بھی ضروری ہوگا۔ بہت سے قانونی ماہرین نے یہ مشورہ دیا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں احتیاط سے کام لینا چاہئے تاکہ عدلیہ کی آزادی کو سمجھنے اور اس کی حفاظت کرنے کی ضرورت کو بھی مدنظر رکھا جا سکے۔

پیچھے ہٹنے کے بغیر، یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ معاملہ نہ صرف درآمدی ہے بلکہ اس کے مضمرات کا تعلق ملک کی آئینی اقدار اور انسانی حقوق سے بھی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مستقبل میں یہ کیس کئی اہم ڈاکیومینٹس کا حصہ بن سکتا ہے۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔