موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

حکومت کے ذریعے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری

نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر قانونی جنگ جاری

نئی دہلی میں آج سپریم کورٹ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کی تقرری کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کر رہا ہے۔ یہ درخواستیں ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز اور دیگر کئی تنظیموں کی طرف سے دائر کی گئی ہیں۔ درخواست گزاروں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کے 2023 میں دیے گئے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ ہدایات واضح کرتی ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے عمل میں ملک کے چیف جسٹس کو بھی شامل کیا جائے۔

عرضی گزاروں کے وکیل، سینئر وکیل پرشانت بھوشن، اس معاملے میں دلائل پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے چیف جسٹس کو سلیکشن کمیٹی سے نکال دیا ہے اور ان کی جگہ ایک کابینہ وزیر کو شامل کیا ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا الیکشن کمیشن کی تقرری کا عمل شفاف اور متاثرہ ہے یا نہیں۔

کمیٹی کی تشکیل میں تبدیلی اور اس کے اثرات

تین رکنی سلیکشن کمیٹی میں موجودہ اراکین میں وزیر اعظم بطور صدر، وزیر داخلہ امت شاہ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی شامل ہیں۔ اس سے پہلے، کابینہ وزیر کے بجائے ملک کے چیف جسٹس کمیٹی کے رکن ہوتے تھے، لیکن حالیہ تبدیلیوں نے ایک نیا سوال اٹھایا ہے کہ کیا یہ تبدیلی الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے یا نہیں۔

17 فروری کو الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو نیا چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا۔ وزارت قانون نے اس تقرری کی باقاعدہ اطلاع بھی دی۔ ہریانہ کے چیف سیکریٹری ویویک جوشی کو نیا الیکشن کمشنر بنایا گیا، جب کہ موجودہ انتخابی کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

راہل گاندھی کا اعتراض اور حکومت کی تنقید

18 فروری کو کانگریس رہنما راہل گاندھی نے گیانیش کمار کی بطور چیف الیکشن کمشنر تقرری پر سخت اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ذکر کیا کہ کمیٹی کی میٹنگ کے دوران انہوں نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو ایک اختلافی نوٹ دیا، جس میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کی تقرری کا عمل آزاد اور شفاف ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی سرکاری دباؤ سے بچا جا سکے۔

انہوں نے حکومت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے سپریم کورٹ کے احکامات کو نظر انداز کر دیا ہے، جو کہ کروڑوں ووٹروں کے لیے تشویش کا باعث ہے اور انتخابی عمل کی غیر جانبداری پر سوال کھڑا کرتا ہے۔ راہل گاندھی نے واضح کیا کہ انتخابات کی شفافیت اور غیر جانبداری کا تقاضا ہے کہ الیکشن کمیشن کا تقرری عمل باقاعدہ اور عادلانہ ہو۔

سماعت کی اہمیت

سپریم کورٹ کی آج کی سماعت اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں نہ صرف الیکشن کمیشن کی موجودہ حالت کا تعین کیا جائے گا بلکہ یہ بھی طے ہوگا کہ آیا حکومت کی جانب سے کی گئی تبدیلیوں سے انتخابات کے شفاف اور غیر جانبدارانہ ہونے پر اثر پڑتا ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ، یہ کیس آئندہ انتخابات کی شفافیت اور عوامی اعتماد کے لیے بھی اہم حیثیت رکھتا ہے۔

اس معاملے میں مزید تفصیلات کے مطابق، ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز نے اپنی درخواست میں واضح طور پر کہا ہے کہ حکومت کو سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت کام کرنا چاہیے اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں۔

عوام کی طرف سے خدشات

عوام کی جانب سے بھی اس تقرری پر بڑی تشویش پائی جا رہی ہے۔ بہت سے شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں شفافیت نہیں ہوگی تو ملک میں جمہوریت کے لیے یہ ایک خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔ عوامی سطح پر اس معاملے پر گفتگو جاری ہے اور سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے بڑی تعداد میں تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

اس نیوز کا انحصار

یہ خبر دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ہے جو اس معاملے کی تفصیلات کو درست طریقے سے پیش کرتی ہے۔ مزید برآں، اس اہم موضوع پر مزید جاننے کے لیے دی انڈین ایکسپریس کا مکمل مضمون یہاں ملاحظہ کریں:[دی انڈین ایکسپریس](https://indianexpress.com).

آگے کی راہ

آنے والے دنوں میں اس معاملے پر کیا فیصلہ ہوتا ہے، یہ دیکھنا باقی ہے۔ سپریم کورٹ کی اس سماعت کے بعد ممکنہ طور پر حکومت کو قانونی طور پر اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ بات بھی اہم ہے کہ اس سماعت کے نتیجے میں عوام کے نمائیندے کس طرح کے فیصلے کرتے ہیں اور کیا وہ جمہوری اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔