موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

امریکہ سے ڈیپورٹ ہونے والے 104 ہندوستانیوں کے لئے نئی مشکلات، دیگر ممالک کی ویزا پابندیاں

ایسے ہندوستانی جو کبھی امریکہ نہیں جا سکیں گے

5 فروری کو امریکہ سے غیر قانونی طور پر مقیم 104 ہندوستانی وطن واپس لوٹے ہیں۔ ان کی واپسی کے بعد، ایک نئی مسئلہ نے جنم لیا ہے جس کے تحت یہ تمام افراد مستقبل میں امریکہ جانے کی کوشش کریں گے تو انھیں اس کی اجازت نہیں ملے گی۔ ان کی اطلاعاتی تفصیلات اور بایومیٹرک اسکیننگ کے نتائج امریکہ کی ہوم لینڈ سیکیورٹی کے پاس محفوظ ہیں، جس کی وجہ سے یہ افراد تقریباً 20 ممالک، جن میں کناڈا، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور برطانیہ شامل ہیں، میں داخل ہونے کے قابل نہیں ہوں گے۔

ڈیپورٹیشن کی وجوہات اور بین الاقوامی اثرات

امریکہ کی ویزا پالیسی کی سختی کی وجہ سے، ان 104 ہندوستانیوں کے لئے راستے بند ہوگئے ہیں۔ درحقیقت، یہ افراد نہ صرف امریکہ سے ڈیپورٹ ہوئے ہیں بلکہ ان کی واپسی کے بعد، ان کی حالت اس لحاظ سے مزید خراب ہوگئی ہے کہ وہ مستقبل میں دیگر ممالک میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔ امریکہ کی حکومت کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی مہاجرین کی ویزا پالیسی کی خلاف ورزی کے باعث ان افراد کو نکال دیا گیا۔

یہاں تک کہ امیگریشن قوانین کی سختی کی وجہ سے، ہندوستانی مہاجرین اور دیگر ممالک کے مہاجرین پر بھی سختی بڑھ گئی ہے۔ حالیہ واقعات نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ امریکہ کی ویزا پالیسی کا اثر دنیا بھر میں محسوس کیا جا رہا ہے، خاص طور پر ان ممالک پر جہاں امریکی ویزا کے قوانین نافذ کیا جا رہے ہیں۔

ڈیپورٹ ہونے والے افراد کی تفصیلات

106 ہندوستانیوں میں سے، زیادہ تر کا تعلق گجرات اور ہریانہ سے ہے، جہاں سے 33-33 افراد امریکہ سے واپس لوٹے ہیں۔ پنجاب سے 30، یوپی اور مہاراشٹر سے 3-3 اور چنڈی گڑھ سے 2 افراد بھی شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی وضاحت فراہم کرتے ہیں کہ کس طرح مختلف ریاستوں کے افراد غیر قانونی طریقے سے امریکہ میں مقیم رہے اور بعد میں ڈیپورٹ ہوئے۔

امریکہ کی حکومت کی جانب سے سخت اقدامات

نئی دہلی میں موجود امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے بتایا کہ واشنگٹن نے امیگریشن کے قوانین میں سختی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں، غیر قانونی طریقے سے مقیم مہاجرین کی واپسی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ مزید اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ ان افراد پر کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی جنہوں نے ٹورسٹ ویزا پر امریکہ جا کر قانونی طور پر کچھ وقت گزارا، لیکن ان مہاجرین پر سخت قانونی قدم اٹھایا جائے گا جنہوں نے اپنے ملک میں کوئی جرم کیا اور پھر امریکہ میں پناہ لی۔

آنے والے دنوں کی توقعات

آنے والے دنوں میں، یہ توقع کی جا رہی ہے کہ امریکہ کی حکومت مزید سخت اقدامات کرے گی اور غیر قانونی مہاجرت کی روک تھام کے لئے مزید قوانین متعارف کرائے گی۔ اس کے علاوہ، وزارت داخلہ نے ہندوستان میں ان افراد کے خلاف بھی تحقیق شروع کر دی ہے جو ممکنہ طور پر اسٹوڈنٹ یا ٹورسٹ ویزا پر امریکہ پہنچے لیکن بعد میں غیر قانونی طور پر رہنے کا انتخاب کیا۔

ہندوستان کی حکومت کا مؤقف

ہندوستانی حکومت ان ڈیپورٹ ہونے والے افراد کی مدد کرنے کے لئے تیار ہے اور ان کی حیثیت کو بہتر بنانے کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ تاہم، یہ بات واضح ہے کہ ان افراد کے لئے مستقبل میں امریکہ اور دیگر ممالک میں داخل ہونے کی راہیں بند ہو چکی ہیں۔

حتمی تجزیہ

یہ واقعہ ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح عالمی سطح پر ویزا پالیسیوں کی سختی مہاجرت کے سلسلے میں مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر، بہت سے ممالک کی حکومتیں امریکہ کی امیگریشن پالیسی سے متاثر ہو رہی ہیں، اور ان کے اپنے ملک میں بھی مہاجرت کی رفتار میں تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں۔