نئی دہلی: دہلی اسمبلی انتخابات کا شاندار مرحلہ، پولیس ہائی الرٹ
نئی دہلی: دہلی اسمبلی انتخابات 2025 کے لیے ووٹنگ کا دن 5 فروری کو مقرر کیا گیا ہے۔ اس اہم موقع پر دہلی پولیس کا ہائی الرٹ میں رہنا عوام کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ شہر بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ انتخابات کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ یہ انتخابات اس بار ایک خاص اہمیت کے حامل ہیں، کیونکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے، اور عوامی رائے دہی کی صورتحال خاصی دلچسپ ہے۔
سکیورٹی انتظامات کی تفصیلات اور انتخابی مہم
دہلی کے جنوبی ضلع پولیس نے اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ ڈی سی پی انکت چوہان کی سربراہی میں، پولیس نے رات بھر گشت کے ذریعے سکیورٹی کی صورتحال کو یقینی بنایا ہے۔ انکت چوہان کے مطابق، "ہمارے ضلع میں تقریباً 15 کمپنیوں پر مشتمل بیرونی سکیورٹی فورسز تعینات کی گئی ہیں، جس سے کل 3800 پولیس اہلکار، 15 کمپنیاں اور 1500 ہوم گارڈز موجود ہیں۔” یہ سکیورٹی اہلکار ووٹنگ کے عمل کو پرامن بنائے رکھنے کے لئے سرگرداں رہیں گے۔
انتخابی ماحول کو محفوظ رکھنے کے لیے اضافی سکیورٹی فورسز اور فعال گشت کا بندوبست کیا گیا ہے۔ یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ہیں کہ ووٹروں کو کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 3 فروری کو شام 5 بجے انتخابی مہم کا اختتام ہو گیا ہے، جس کے دوران عام آدمی پارٹی، بی جے پی اور کانگریس نے ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لئے بھرپور کوششیں کیں۔
انتخابی مہمات اور سیاسی منظرنامہ
انتخابی مہم کے دوران تینوں جماعتوں نے اپنے منشور میں متعدد گارنٹیاں پیش کی ہیں۔ عام آدمی پارٹی کی جانب سے جدید ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ عوامی سہولیات میں اضافے کا وعدہ کیا گیا ہے، جبکہ بی جے پی اور کانگریس نے بھی عوامی مسائل کے حل کے لئے اپنے اپنے منصوبے پیش کیے ہیں۔ یہ سہ رخی مقابلہ دہلی کی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جس سے عوام کی رائے اور ووٹ کے ذریعے یہ فیصلہ ہوگا کہ نئی حکومت کس کی ہوگی۔
نتائج کے اعلان کا دن 8 فروری ہے، جب یہ واضح ہو جائے گا کہ دہلی میں کس جماعت کی حکومت بنے گی۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال مسلسل چوتھی بار نئی دہلی اسمبلی حلقے سے جیتنے کی امید رکھتے ہیں۔ دوسری جانب، کانگریس کا دعویٰ ہے کہ دہلی کے عوام 15 سالہ شیلا دکشت کے دور اقتدار کی یادگار کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ووٹ دیں گے۔
نئی دہلی کے عوام کی رائے اور ووٹ کا فیصلہ
انتخابی ماحول میں عوامی رائے کی اہمیت بہرحال بڑھ گئی ہے۔ ووٹرز کی رائے، ان کے مسائل، اور ان کی توقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ انتخابات ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔ دہلی کے عوام میں جوش و خروش پایا جاتا ہے، اور وہ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے لئے تیار ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران عوامی اجتماعات اور پرسکون عوامی مباحثوں نے عوام کی دلچسپی میں اضافہ کیا ہے، جو اس بات کا عکاس ہے کہ دہلی کے عوام اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔
انتخابات کے دوران ووٹرز کی تربیت اور آگاہی بھی ایک اہم پہلو ہے۔ اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ عوام صحیح معلومات کے ساتھ ووٹ ڈالیں۔ امیدواروں کی قابلیت اور ان کے وعدوں کا تجزیہ کرنے کے لئے مختلف پلیٹ فارمز پر معلومات دستیاب ہیں۔
انتخابات اور مستقبل کی چالیں
جیسے جیسے انتخابات قریب آ رہے ہیں، سیاسی جماعتوں نے اپنی حکمت عملیوں پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ انتخابات دہلی کی سیاسی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ عوام کی توقعات، سیاسی جماعتوں کے وعدے اور انتخابات کے نتائج کا عوام پر اثر انداز ہونا وقت کا تقاضا بن گیا ہے۔
انتخابات کے بعد جو بھی جماعت حکومت بنائے گی، اسے عوامی مسائل کو حل کرنے، ترقیاتی منصوبوں پر عمل درامد کرنے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا۔ عوام کو یہ توقع ہے کہ ان کے منتخب نمائندے انہیں ہر ممکنہ مدد فراہم کریں گے، تاکہ وہ اپنی زندگیوں کو بہتر بنا سکیں۔

