بہار کی اسمبلی انتخابات کے پس منظر میں بجٹ کی اہمیت
مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے حال ہی میں عام بجٹ پیش کیا ہے جس میں بہار کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے۔ بہار میں اس سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، اور ان انتخابات سے پہلے حکومت کی جانب سے بہاری عوام کے لئے خاص اعلانات کیے گئے ہیں۔ اس بجٹ میں کل 7 بڑے اعلانات شامل ہیں جو ریاست کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود جنتا دل یو کے رہنماؤں نے بجٹ پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے، جس کی وجہ سے سیاسی ہلچل جاری رہ سکتی ہے۔
بجٹ میں کیے گئے اعلانات کے ذریعے مودی حکومت نے بہار کے لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے، مگر جنتا دل یو کے موقف میں تضاد دکھائی دیتا ہے۔ اس جماعت کے رکن اسمبلی خالد انور نے کہا ہے کہ بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دیا جانا چاہیے تھا۔
بجٹ میں کیے گئے اہم اعلانات
نرملا سیتارمن نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بہار میں ایک نیا مکھانا بورڈ قائم کیا جائے گا، جس کا مقصد ریاست کے کسانوں کو مکھانے کے کاروبار میں حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ یہ اقدام مقامی کسانوں کے معیشت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
ان کے علاوہ، آئی آئی ٹی پٹنہ کی توسیع کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت نئے فیچرز متعارف کروائے جائیں گے اور سیٹوں کی تعداد بھی بڑھائی جائے گی۔ یہ پیشرفت برائے مقامی طلباء کے لیے مختلف مواقع فراہم کرے گی، جس سے تعلیم کے شعبے میں بہتری آئے گی۔
نرملا سیتارمن نے مزید کہا کہ نیشنل فوڈ ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ بھی بہار میں قائم کیا جائے گا، جس کے لئے جگہ کا انتخاب ابھی طے نہیں ہوا، مگر اس کا امکان جموئی یا حاجی پور میں ہے۔ یہ اقدام مقامی صنعتوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرے گا۔
بجٹ کا اثر اور سیاسی پس منظر
ایک اور اہم اعلان کے مطابق، ویسٹرن کوسی کنال میں کام کے لیے الگ سے بجٹ مختص کیا گیا ہے، جس سے بہار کے در بھنگہ اور مدھوبنی کے علاقوں میں آبپاشی کے کام میں آسانی ہوگی۔ یہ ایک طویل مدتی مطالبہ تھا جو بہار کے کسانوں کے لئے خوش آئند ہے۔
علاوہ ازیں، بہٹا ایئرپورٹ کی توسیع اور پٹنہ ایئرپورٹ کی جدید تنصیبات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پٹنہ میں ایئرپورٹ کی توسیع کا مطالبہ کافی عرصے سے ہو رہا تھا، جس سے اس شہر کی فضائی روابط میں اضافہ ہوگا۔
اسی طرح، بہار میں 3 نئے گرین فیلڈ ایئرپورٹس بھی بنانے کا منصوبہ ہے، جس کے مقامات بھاگلپور، راجگیر اور سونپور ہیں۔ یہ اعلانات بہار کی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی جانب ایک مثبت قدم تصور کیے جا رہے ہیں۔
جنتا دل یو کی تنقید
حالانکہ حکومت نے بجٹ میں کئی اہم اعلانات کیے ہیں، جنتا دل یو کے رہنما خالد انور نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دیا جانا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ تکنیکی خامیاں نیتی آیوگ کی جانب سے ہیں جن کی وجہ سے بہار کو یہ درجہ نہیں مل پایا۔
خالد انور کا کہنا ہے کہ اگر بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دیا جائے تو اس کی ترقی میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیتی آیوگ کی میٹنگز میں ان کی جماعت کی جانب سے یہ مطالبہ بار بار اٹھایا گیا ہے۔
یہاں تک کہ انہوں نے کہا کہ "بجٹ میں جو اعلانات کیے گئے ہیں وہ ٹھیک ہیں، لیکن بہار کو مزید کچھ ملنا چاہیے تھا۔”

