ہندوستانی سیاسی منظرنامے میں کانگریس کی بڑھتی ہوئی تنقید
ہفتہ (25 جنوری) کو کانگریس پارٹی نے ‘نیشنل ووٹرس ڈے’ کے موقع پر الیکشن کمیشن کی آزادی پر سوال اٹھایا اور اسے ایک دہائی سے جاری چھیڑ چھاڑ کا نشانہ بنایا۔ کانگریس کے اعلیٰ رہنماوں نے دعویٰ کیا کہ الیکشن کمیشن کا موجودہ رویہ آئین کی توہین اور ووٹروں کی عزت کا مذاق بن چکا ہے۔
کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ایمانداری میں زوال ایک سنگین قومی مسئلہ ہے۔ انھوں نے نشاندہی کی کہ یہ الیکشن کمیشن اور ہماری پارلیمانی جمہوریت کی بنیاد ہے جو ایک وقت میں عالمی سطح پر مثالی سمجھی جاتی تھی۔ کھڑگے کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کے سبب ہو رہا ہے جس سے آمرانہ رویے کو فروغ مل سکتا ہے۔
مسئلہ کی وضاحت: الیکشن کمیشن کی آزادی پر سوالات
کانگریس کے جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، جہاں انہوں نے 2011 سے نیشنل ووٹرس ڈے منانے کی یاد دہانی کرائی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ 25 جنوری 1950 کو الیکشن کمیشن کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ گزشتہ کچھ سالوں میں حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر براجمان افراد نے الیکشن کمیشن کی پیشہ ورانہ آزادی پر سنگین چھیڑ چھاڑ کی ہے۔
کھڑگے اور رمیش دونوں نے مل کر الیکشن کمیشن پر نکتہ چینی کی ہے کہ حالیہ ہریانہ اور مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے معاملات میں کمیشن کا رویہ قابل مذمت رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیشن انتخابات کے دوران ایک متوازن رویہ اختیار کرنے میں ناکام رہا ہے۔
کانگریس کی اس تنقید کے اثرات
یہ تمام بیانات اس وقت سامنے آئے جب انتخابات قریب ہیں اور سیاسی جماعتیں اپنی حکمت عملیوں کو مزید موثر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کانگریس کی تنقیدوں کا مقصد عوام کے سامنے الیکشن کمیشن کی کارکردگی کو سوالیہ نشان بنانا ہے۔ کھڑگے نے واضح کیا کہ قومی جمہوریت کے تحفظ کے لیے الیکشن کمیشن کی آزادی کا تحفظ ضروری ہے۔
جئے رام رمیش کی جانب سے الیکشن کمیشن کی پچھلی کارکردگی پر کیے گئے الزامات نے اس بات کو اور بھی واضح کر دیا ہے کہ سیاسی جماعتیں اس ادارے کی غیر جانبداری کو کس طرح متاثر سمجھتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آج کے دن خود کو مبارکبادیں دی جائیں گی، لیکن یہ حقیقت نہیں چھپے گی کہ الیکشن کمیشن کا حالیہ رویہ آئین کا مذاق اور ووٹروں کی توہین ہے۔
یہ صورتحال انتخابات کے دوران سیاسی جماعتوں کے لئے ایک چیلنج بن سکتی ہے۔ کانگریس کی جانب سے یہ موقف عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ عوامی جذبات کو بیدار کر رہی ہے کہ الیکشن کمیشن نے ان کی نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم کردار ادا نہیں کیا۔
آگے کی سمت: الیکشن کمیشن کی آزادی کی حفاظت
کانگریس کے رہنماوں کا خیال ہے کہ اگر اس طرح کے واقعات جاری رہے تو یہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ کھڑگے نے زور دیتے ہوئے کہا، “ہمیں اپنے اداروں کی آزادی کی حفاظت کرنا ہوگی تاکہ یہ جمہوریت کے فوائد کو برقرار رکھ سکیں۔”
یہ تنقیدیں اس وقت آئی ہیں جب ملک میں انتخابات کی گونج بڑھ رہی ہے اور عوامی رائے کو مستحکم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اس تنقید کا جواب کس طرح دے گا اور آیا وہ اپنی پیشہ ورانہ آزادی کو بحال کرنے میں کامیاب ہوگا یا نہیں۔
سیاسی منظرنامہ: کیا کانگریس کی تنقید اثرانداز ہوگی؟
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کانگریس کی یہ تنقیدیں آئندہ انتخابات میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ عوامی رائے میں تبدیلی کے لئے یہ ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے مخالفین کے اقدامات کو منظر عام پر لائیں۔ اگر یہ تنقیدیں عوام میں مقبول ہوئیں تو یہ کانگریس کے لئے ایک بڑی کامیابی ہو سکتی ہیں۔
یقینی طور پر، الیکشن کمیشن کو اپنی آزادی کے تحفظ کے لئے واضح اقدام کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ اپنی ساکھ کو برقرار رکھ سکے۔

