موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

بانگ درا: اقبال کی شاعری کی سیاسی حیثیت پر ایک بصیرت

مفکر اقبال کی شاعری کی صد سالہ تقریب: ایک تاریخی موقع

بانگ درا، علامہ اقبال کا پہلا اردو شعری مجموعہ، اس سال اپنی شائع ہونے کی سو سالہ تقریب منا رہا ہے۔ اس اہم موقع پر دہلی میں اردو اکادمی کی زیر اہتمام منعقدہ ایک سمینار میں اس کتاب کی سیاسی اور ثقافتی اہمیت پر گفتگو کی گئی۔ اس تقریب کا مقصد اقبال کی فکر کی تازگی کو منوانا اور ان کے فلسفہ کو نئی نسل کے سامنے پیش کرنا تھا۔ سامعین میں موجود مختلف دانشوروں نے اقبال کے کلام کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی، جن میں ان کی شاعری کی نئی تفسیریں بھی شامل تھیں۔

سمینار کے کنوینر پروفیسر معین الدین جینا بڑے نے اپنی گفتگو میں کہا کہ بانگ درا ایک زندہ متن ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ نئے سرے سے سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقبال کی شاعری آج بھی نئے حوصلے اور ولولے عطا کرتی ہے۔

سیاسی پس منظر: اقبال کا کردار

پروفیسر عبدالحق نے صدراتی خطاب میں اقبال کی شاعری کی سیاسی حیثیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بانگ درا ہندوستان کی تاریخ میں سیاسی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ شعری مجموعہ بیسویں صدی کی ابتدائی پچیس سال کی تاریخ کی تخلیقی مثال پیش کرتا ہے۔ اقبال وہ پہلے شاعر ہیں جن کے اشعار محاوروں کی شکل میں زبان زدعام ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقبال کی شاعری آج بھی ملکی مسائل اور معاشرتی چیلنجز کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی وفات نے اس تقریب میں ایک احساس غم پیدا کردیا۔ پروفیسر شہپر رسول نے ان کے اقبال شیدائی ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ منموہن سنگھ کی زندگی اقبال کی شاعری کے بغیر نامکمل تھی۔ ان کی یاد میں ایک قرارداد پیش کی گئی، جس میں اللہ تعالی سے ان کی روح کے سکون کے لئے دعا کی گئی۔

اکادمی کا کردار: اردو ادب کی ترویج

اردو اکادمی دہلی نے اپنے علمی، ادبی، اور ثقافتی روایات کے فروغ کے لئے یہ سمینار منعقد کیا۔ اس میں ملک بھر سے ادبا اور دانشور شریک ہوئے، جنہوں نے اقبال کی شاعری کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کی۔ پروفیسر خالد علوی نے اقبال کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقبال کے بعض اشعار آج بھی ہماری سمجھ سے باہر ہیں، جو ان کی فکر کی گہرائی کا ثبوت ہے۔

یہ سمینار اقبال کی شاعری کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا ایک بہترین موقع تھا، جس میں سامعین کو اقبال کے فلسفے اور ان کی سوچ کی گہرائی پر غور کرنے کا موقع ملا۔ پروفیسر رحمت یوسف زئی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقبال کی شاعری آج بھی اہم ہے اور اس کا اثر آج بھی محسوس کیا جاتا ہے۔

نئی نسل کے لئے اقبال کا پیغام

یہ سمینار نئی نسل کے لئے اقبال کے پیغام کو سمجھنے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ اقبال کی شاعری انسانیت کی عظمت اور اسلامی اقدار کی ترویج کے لیے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ موجودہ دور میں، جہاں مسائل کا انبار ہے، اقبال کی شاعری ہمیں امید اور حوصلہ فراہم کرتی ہے کہ ہم اپنے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔

اقبال نے جس نظام کا خواب دیکھا وہ نظام عدل و انصاف تھا، جو آج بھی پیش نظر رہنا چاہئے۔ یہ سمینار اقبال کے افکار کو سمجھنے اور ان کی فکر کی روشنی میں نئے راستوں پر گامزن ہونے کی دعوت دے رہا ہے۔

اقبال کی شاعری: ایک نئی روشنی

اقبال کی شاعری میں مضامین کی گہرائی اور تنوع ہمیں بتاتی ہیں کہ وہ صرف ایک شاعر نہیں تھے، بلکہ وہ ایک مفکر تھے جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے قوم کی بیداری کا پیغام دیا۔ اس سمینار کے توسط سے ہمیں یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ اقبال نے اپنی شاعری میں جدوجہد، خودی، اور قومی شناخت جیسے موضوعات کو کیسے اجاگر کیا۔

سمینار میں موجود ہر شرکت دار نے اقبال کی شاعری کو نئے طریقے سے سمجھنے کی کوشش کی، اور اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اقبال کے خیالات کو صرف ادب کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک داعی کی حیثیت سے بھی دیکھنا چاہئے۔