ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سیاست اور اقلیتوں کے حقوق
ہندوستان کی تاریخ میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی شراکت ایک لازوال داستان ہے، جو نہ صرف معاشی ترقی کی راہیں ہموار کرنے میں کامیاب رہے بلکہ اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کے لیے بھی بھرپور جدوجہد کی۔ مہاراشٹرا کانگریس کے کارگزار صدر اور سابق وزیر محمد عارف نسیم خان کے مطابق، ان کے انتقال سے مسلمان ایک ایسے رہنما سے محروم ہوگئے ہیں جو ہمیشہ ان کے مسائل کو سمجھتا اور ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتا رہا۔
کون، کیا، کہاں، کب، کیوں، اور کیسے؟
ڈاکٹر منموہن سنگھ ہندوستان کے وزیراعظم رہے اور ان کی حکومت میں مسلمانوں کے حالات کے مطالعے کے لیے سچر کمیٹی قائم کی گئی، جس نے مسلمانوں کی پسماندگی کو اجاگر کیا۔ یہ رپورٹ 2006 میں سامنے آئی اور اس نے مسلمانوں کی ترقی کے لیے عملی منصوبہ پیش کیا۔ نسیم خان نے کہا کہ ان کے دور میں کئی اہم اقدامات اٹھائے گئے جنہوں نے مسلمانوں کے مسائل کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ان کی حکومت نے 2004 سے 2014 کے دوران اس طرح کے پروگرام متعارف کروائے جو آج بھی مسلمانوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے مسلمان نوجوانوں کے لیے خصوصی اسکالرشپ متعارف کروائیں، تعلیمی اداروں کی جدید کاری کی، اور روزگار کے مواقع کو بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ یہ سب ان کی اقلیت دوستی اور انصاف پسندی کی علامت ہے۔
منموہن سنگھ کی رہنمائی میں اہم اقدامات
ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اقلیتوں کے لیے 15 نکاتی پروگرام متعارف کروایا، جو ان کی حکومت میں مسلمانوں کی زندگی میں انقلابی تبدیلیوں کا باعث بنا۔ اس پروگرام نے ان کی حکومت کے دور میں اقلیتی بچوں کی تعلیم کو فوقیت دینے، مدرسوں کی اصلاحات کرنے، اور معاشی ترقی کے لیے جدید طریقے اپنانے پر زور دیا۔
ان کے دور میں مسلم کمیونٹی کے لئے بینکنگ سہولیات کا قیام اور فنڈز کی فراہمی بڑھانے کی کوششیں بھی کی گئیں، جس نے مسلمان کمیونٹی کے مسائل کو حل کرنے کی راہ ہموار کی۔ یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ہمیشہ اس بات پر یقین رکھا کہ اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے بغیر ہندوستان کی ترقی ادھوری ہے۔
ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وراثت
نسیم خان نے کہا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کا وژن آج بھی ان کی یادوں میں زندہ ہے۔ ان کی کوششوں کی بدولت مسلمانوں کو عزت نفس اور وقار کے ساتھ جینے کا حق ملا۔ ان کی مثال قائم کردہ پالیسیاں آج بھی اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتی ہیں اور ان کی یاد کو زندہ رکھتی ہیں۔
یہاں تک کہ جب انہوں نے اپنے دور حکومت میں مسلمانوں کے مسائل کی بات کی، تو ان کے یہاں عملی اقدامات موجود تھے۔ تعلیمی اداروں کی مالی امداد میں اضافہ، صحت اور روزگار کے مسائل کو حل کرنے کے لیے پروگرام متعارف کروائے گئے، جو ان کی قیادت کی شاندار مثال ہیں۔
مسلمانوں کے حقوق کی حمایت کا سفر جاری
محمد عارف نسیم خان نے کہا کہ اگرچہ ڈاکٹر منموہن سنگھ اب ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن ان کی پالیسیوں اور اقدامات کا اثر آنے والی نسلوں پر رہے گا۔ ان کی یاد میں، مسلمانوں کو ایک مستحکم مستقبل کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے، جہاں ان کے حقوق کا تحفظ ہو۔ ان کی رہنمائی کے اصولوں کو اپنانے کے ساتھ ہی ہمیں آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔
ملک کی ترقی کیلئے اقلیتوں کی شمولیت کا خیال رہنا وقت کی ضرورت ہے۔ البتہ، ہندوستانی مسلمانوں کو یہ یقین دہانی کرائی جانی چاہیے کہ ان کے حقوق کا دفاع کیا جائے گا اور ان کی ترقی کا راستہ ہموار کیا جائے گا۔
۔

