موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ملک میں سوگ کی فضا، منموہن سنگھ کی خدمات کو یاد کیا جا رہا ہے

سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کا انتقال: قومی سوگ، ہر طرف تعزیت کے پیغامات

ہندوستان کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا 92 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے، جس پر حکومت نے 7 دن کا قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اس سوگ کا اثر ملک بھر میں محسوس کیا جا رہا ہے جہاں کانگریس سمیت مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے پروگرام منسوخ کردیئے ہیں۔ ان کی موت پر عوام اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے تعزیت اور خراج تحسین کا سلسلہ جاری ہے۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی زندگی کے بہت سے پہلوؤں کو یاد کرتے ہوئے، متعدد اہم شخصیات ان کے آخری دیدار کے لیے ان کی رہائش گاہ پہنچیں۔ ان میں موجودہ وزیراعظم نریندر مودی، نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی شامل تھے۔ انہوں نے منموہن سنگھ کی خدمات کو سراہا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

یکم دسمبر، 2023: منموہن سنگھ کی زندگی کا سفر

ڈاکٹر منموہن سنگھ کا انتقال جمعرات کی شام کو ہوا جب انہیں دہلی کے ایمس اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ یہاں انہیں بے ہوشی کی حالت میں لے جایا گیا تھا اور انہوں نے شام 9:51 بجے آخری سانس لی۔ ان کی صحت کئی سالوں سے خراب تھی اور وہ مختلف بیماریوں کا شکار رہے۔ پاکستان کی تقسیم کے دور میں پیدا ہونے والے منموہن سنگھ نے اپنی زندگی میں نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر بھی کامیابیاں حاصل کیں۔

وزیراعظم مودی نے ایک جذباتی ویڈیو میں کہا کہ "ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال نے سب کے دلوں میں گہرا دکھ پیدا کیا ہے۔” یہ ایک زبردست علامت ہے کہ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں کیا کچھ حاصل کیا اور کس طرح وہ سب کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔

سیاستدانوں اور عوام کا ردعمل

ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال پر آر جے ڈی کے سربراہ لالو یادو نے کہا کہ یہ ملک کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ڈاکٹر منموہن سنگھ ایک ایماندار رہنما تھے جن کی قیادت میں میں نے بھی کام کیا۔ ان کے انتقال کی خبر سن کر مجھے شدید صدمہ پہنچا ہے۔”

سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کی زندگی میں ان کی اقتصادی پالیسیوں کا ایک بڑا کردار تھا، جن کے باعث ملک نے نمایاں ترقی کی۔ ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے، ملک بھر کی سیاسی جماعتوں نے انہیں یاد کیا۔

ملک بھر میں سوگ، کانگریس کے پروگرام منسوخ

ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال پر کانگریس پارٹی نے 7 دن کے لیے اپنے تمام پروگرام منسوخ کر دیے ہیں۔ کانگریس جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال نے اعلان کیا کہ پارٹی کے دفاتر پر پرچم سرنگوں رہے گا اور تمام کارکنان اس المناک وقت میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔

پارٹی نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ان کی دور اندیش پالیسیوں نے ملک کو نہ صرف اقتصادی طور پر مضبوط کیا بلکہ عالمی سطح پر اس کا وقار بھی بلند کیا۔

امرتسر میں غم کی لہر

دوسری جانب، امرتسر میں، جہاں ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اپنا بچپن گزارا، وہاں مقامی رہائشیوں نے ان کی زندگی اور خدمات کو یاد کیا۔ ایک مقامی رہائشی نے کہا کہ "وہ 70-80 سال پہلے یہاں رہتے تھے اور ایک بار رکن پارلیمنٹ بننے کے بعد امرتسر آئے تھے۔” لوگوں نے انکے انتقال کو ایک قومی نقصان قرار دیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کا اثر کیسا تھا۔

علیحدہ تقریبات کا منسوخ ہونا

کانگریس کے صدر مکول راجن کھڑگے اور سینئر رہنما راہل گاندھی بھی بیلگاوی میں جاری ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ چھوڑ کر دہلی پہنچ گئے ہیں۔ ان کی شرکت کے بغیر بیلگاوی میں ہونے والی کانگریس کی ریلی اور دیگر سرگرمیاں منسوخ کی گئی ہیں۔

آخری رسومات کا اہتمام

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی آخری رسومات کل پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی جائیں گی۔ ان کی ایک بیٹی، جو امریکہ میں ہیں، دہلی پہنچ رہی ہیں، جس کے بعد رسومات کا پروگرام طے کیا جائے گا۔ خاندانی ذرائع کے مطابق رسومات کل دوپہر یا شام کو متوقع ہیں۔۔