موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی سادگی: ماروتی-800 کی محبت، بی ایم ڈبلیو کو چھوڑ دیا!

سابق وزیر اعظم کی زندگی کی ایک جھلک

ہندوستان کے ایک معروف اور معزز سابق وزیرِ اعظم، ڈاکٹر منموہن سنگھ، جن کا انتقال حال ہی میں دہلی کے ایمس اسپتال میں ہوا، اپنی سادگی، ایمانداری اور قیادت کے لیے جانا جاتا تھا۔ ان کی زندگی میں بے شمار کہانیاں ہیں جو ان کی سادگی کی عکاسی کرتی ہیں، مثلاً ان کے پسندیدہ گاڑی ماروتی-800 کا ذکر جو کہ ان کی شخصیت کی ایک نمایاں مثال ہے۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اپنی سیاسی زندگی میں کبھی بھی عیش و عشرت کو اہمیت نہیں دی۔ ان کی ذاتی زندگی اور ان کی عوامی زندگی میں ایک واضح فرق تھا، جو ان کے سادہ اور خودداری طرز فکر کا عکاس تھا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بی ایم ڈبلیو جیسی مہنگی سرکاری گاڑیوں کے بجائے اپنی پرانی ماروتی-800 کو ترجیح دیتے تھے، جس کی وجہ سے لوگوں میں ان کی مقبولیت مزید بڑھی۔

کیا ہوا، کہاں ہوا، کب ہوا؟

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی موت کی خبر نے ملک بھر میں سوگ کا سماں پیدا کر دیا۔ وہ 2004 سے 2014 تک ہندوستان کے وزیر اعظم رہے اور کئی اہم معاشی اصلاحات کا آغاز کیا۔ ان کی عمر 90 سال تھی جب انہوں نے اپنی آخری سانس لی۔ ان کی سادگی کے کئی قصے مشہور ہیں، جن میں ایک دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ ایک بار جب ان کے سابق حفاظتی افسر، اسیم ارون، نے انہیں بی ایم ڈبلیو کی سیکیورٹی کے بارے میں سمجھانے کی کوشش کی تو انہوں نے کہا کہ "میری گاڑی تو ماروتی-800 ہے”۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈاکٹر منموہن سنگھ کی رہائش گاہ کے باہر ایک شاندار بی ایم ڈبلیو کھڑی تھی، جو کہ سرکاری طور پر ان کی حفاظت کے لیے مقرر کی گئی تھی۔ لیکن ان کا انکار اس بات کی علامت تھا کہ وہ کسی بھی طرح کی عیش و عشرت کے خواہاں نہیں تھے اور ہمیشہ ایک سادہ زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے تھے۔

کیوں یاد رکھیں، کس طرح یاد رکھیں؟

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سادگی اور عوامی خدمت کا جذبہ ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گا۔ ان کی زندگی کی مثالیں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگ بھی سادگی اور ایمانداری کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ہر لمحے میں عوام کی بھلائی کے لیے کام کیا اور کبھی بھی اپنی ذاتی آرام کو ترجیح نہیں دی۔

ان کی سادگی کی ایک اور مثال یہ ہے کہ جب بھی ان کا کانوائے ماروتی-800 سے گزرتا، تو وہ ہمیشہ ایک نظر اس پر ڈالتے، جیسے یہ ان کی مڈل کلاس کی پہچان تھی۔ ان کی یہ عادت ان کو عوام کے قریب کرتی تھی اور انہیں مختلف طبقوں کے لوگوں کے ساتھ جوڑتی تھی۔

ان کی وراثت

ڈاکٹر منموہن سنگھ کے چلے جانے سے ہندوستان نے ایک نہایت قابل، ایماندار، اور سادہ شخصیت کو کھو دیا ہے۔ ان کی سادگی نہ صرف ان کے سیاسی کیریئر کا حصہ تھی بلکہ یہ ان کی زندگی کی ہر پہلو کا نمایاں حصہ تھی۔ ان کا سادہ طرزِ زندگی اور عوامی خدمت کا جذبہ انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ماروتی-800 کے حوالے سے ان کی محبت ہمارے لیے ایک سبق ہے کہ انسان کی عظمت اس کی مادی چیزوں میں نہیں، بلکہ اس کے کردار اور اس کی خدمات میں ہوتی ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ہمیں یہ سکھایا کہ سادگی اور ایمانداری ہمیشہ بہترین زندگی کی بنیاد ہوتی ہے۔