موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

آنے والا سال 2024: سیاسی منظرنامہ، حیران کن نتائج اور بی جے پی کو لگنے والے زبردست جھٹکے

سال 2024 کی سیاسی کہانی: بی جے پی کی ناکامیاں اور عوامی ردعمل

سال 2024 اپنے اختتام کے قریب ہے اور اس دوران ملک کی سیاست میں کئی اہم تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔ لوک سبھا انتخابات اور ریاستی اسمبلی انتخابات کے نتائج نے اتنے بڑے پیمانے پر عوام کو حیران کر دیا کہ کسی نے بھی اس کی توقع نہیں کی تھی۔ اس سال کے انتخابات میں بی جے پی کو کئی محاذوں پر جھٹکے لگے، جس نے نہ صرف ان کی سیاسی طاقت کو چیلنج کیا بلکہ عوامی رائے کو بھی تبدیل کردیا۔

کون؟ بی جے پی، جو کہ ایک مضبوط سیاسی جماعت مانی جاتی ہے، نے 2024 کے انتخابات کے دوران مختلف ریاستوں میں ناکامی کا سامنا کیا۔ وہ کیا؟ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے نتائج خاص طور پر متوقع تھے، مگر حقیقت نے انہیں حیران کر دیا۔ کہاں؟ یہ صورتحال مختلف ریاستوں جیسے اتر پردیش، مہاراشٹر، اوڈیشہ اور ہریانہ کی تھی۔ کب؟ یہ تمام واقعات سال 2024 کے انتخابات کے دوران پیش آئے۔ کیوں؟ عوام کے سیاسی فیصلے واضح طور پر بی جے پی کی حکمرانی کے خلاف موجود عدم اطمینان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کیسے؟ انتخابی مہم کے دوران عوام نے بی جے پی کے نعرے اور وعدوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور اس کا اثر انتخابات کے نتائج پر واضح ہوا۔

بی جے پی کی ناکامی: ایک تجزیہ

بی جے پی نے لوک سبھا انتخابات کے دوران ‘چار سو پار’ کا نعرہ دیا تھا، جس کا مطلب تھا کہ وہ 400 نشستیں حاصل کریں گے۔ ان کی توقعات کے برعکس، بی جے پی صرف 240 نشستوں تک محدود رہی، جو کہ ان کے لیے ایک بڑی شکست تھی۔ یہاں تک کہ اتر پردیش، جو کہ بی جے پی کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا تھا، میں بھی انہیں زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 2019 کے انتخابات میں بی جے پی نے یہاں 62 نشستیں حاصل کی تھیں، لیکن اس بار یہ تعداد صرف 33 رہ گئی۔

یہ بات واضح ہے کہ بی جے پی کی حکمت عملی اور عوامی توقعات کے درمیان ایک بڑی کھائی پیدا ہو گئی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام نے مختلف ریاستوں میں بی جے پی کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کیا، جو کہ انتخابی نتائج میں واضح طور پر ظاہر ہوا۔

ریاستی اسمبلی انتخابات کے نتائج: حیران کن تبدیلیاں

سال 2024 کے دوران ہونے والے اسمبلی انتخابات بھی بی جے پی کے لیے حیران کن ثابت ہوئے۔ اوڈیشہ میں 24 سال سے حکمرانی کرنے والی نوین پٹنائک کی پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور یہاں بی جے پی نے پہلی بار ایک اہم حیثیت حاصل کی۔ یہ تبدیلی سیاسی منظرنامے میں ایک نیا رنگ بھر گئی۔

اسی طرح، ہریانہ کے انتخابات میں بھی سیاسی تجزیہ کاروں کی توقعات غلط ثابت ہوئیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ اقتدار مخالف لہر کے باعث کانگریس جیتے گی، لیکن بی جے پی نے کامیابی حاصل کی۔ مہاراشٹر میں بھی بی جے پی کے مخالفین کی توقعات دھوکہ ثابت ہوئیں۔ ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا اور شرد پوار کی این سی پی کو عوام کی حمایت حاصل کرنے کی امید تھی، مگر اقتدار پر قابض ہونے میں ناکام رہے۔

جموں و کشمیر میں بی جے پی کی حکمت عملی کی ناکامی

بی جے پی نے جموں و کشمیر میں بھی امیدیں باندھ رکھی تھیں کہ وہ دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد اکثریت حاصل کر لے گی۔ مگر یہ توقع بھی پوری نہ ہوئی اور انہیں یہاں بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ جھارکھنڈ میں بھی بی جے پی کی حکومت بنانے کی دعوے کے باوجود، ہیمنت سورین نے پھر سے کامیابی حاصل کی۔

یہ تمام نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک کی سیاست میں عوام کی رائے اور ان کے فیصلے پہلے سے کہیں زیادہ متاثر کن ہو چکے ہیں۔

عوام کی طرف سے سامنے آنے والے نتائج: ایک نئی سیاسی حقیقت

اس سال کے انتخابات نے بی جے پی کے لئے جو چیلنجز پیدا کیے ہیں، وہ نہ صرف ان کی قومی سطح پر طاقتور حیثیت کو متاثر کر سکتے ہیں بلکہ آنے والے سالوں میں عوامی سیاست کی نئی جہت بھی کھول سکتے ہیں۔ عوام نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ وہ حکومت کی پالیسیوں اور امور پر کتنا گہرا غور و فکر کرتے ہیں۔

اگرچہ بی جے پی نے متعدد ریاستوں میں کامیابی حاصل کی ہے، مگر ان کی حالیہ ناکامیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام اب مزید سنجیدگی سے سیاسی فیصلے کر رہے ہیں۔ یہ ایک نئی سیاسی جانچ ہے جس سے آنے والے انتخابات کی حکمت عملیوں میں بھی تبدیلی کے آثار نظر آ سکتے ہیں۔۔