موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کسانوں کی تحریک دارالحکومت میں 20 ویں دن بھی جاری

دہلی کی سرحدوں پر قریب چالیس کسان تنظیموں کی جانب سے مسلسل دھرنا مظاہرہ کیا جارہا ہے اور وہ لمبے وقت تک جدوجہد کی بات کررہے ہیں۔ حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لئے کسانوں کی جانب سے کل ایک دن کی بھوک ہڑتال کی گئی تھی۔

نئی دہلی: زرعی اصلاحات قوانین کے خلاف کسان تنظیموں کی تحریک قومی دارالحکومت میں 20 ویں دن بھی جاری رہا۔ کسان تنظیموں کی جانب سے دہلی کی سرحدوں کے نزدیک دھرنا مظاہرہ جاری رہا۔
اس دوران کسان تنظیموں کے رہنماؤں نے کہا کہ حکومت کو تینوں زرعی اصلاحات قوانین کو واپس لے لینا چاہئے۔  فصلوں کے کم از کم امدادی قیمت کو قانونی درجہ دینا چاہئے۔
وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا ہےکہ کسانوں کو تحریک کا راستہ چھوڑ کر بات چیت سے مسئلہ کا حل کرنا چاہئے۔ دہلی کی سرحدوں پر قریب چالیس کسان تنظیموں کی جانب سے مسلسل دھرنا مظاہرہ کیا جارہا ہے اور وہ لمبے وقت تک جدوجہد کی بات کررہے ہیں۔
حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لئے کسانوں کی جانب سے کل ایک دن کی بھوک ہڑتال کی گئی تھی۔ کچھ کسان تنظیموں نے زرعی اصلاحات قوانین کی حمایت بھی کی ہے۔