موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

بی جے پی اپنے کیڈر کی بات نہیں سنتی، اس لیے 15 سیٹوں تک محدود ہو گئی: بھوپیش بگھیل

اسمبلی انتخاب کی تاریخوں کے اعلان کے ساتھ ہی چھتیس گڑھ میں سیاسی پارہ چڑھنے لگا ہے۔ برسراقتدار پارٹی کانگریس پھر سے اقتدار میں واپسی کو لے کر پراعتماد ہے، وہیں بی جے پی اقتدار میں واپسی کی کوششیں کر رہی ہے۔ حالانکہ پارٹی کی حالت ریاست میں اچھی نہیں بتائی جا رہی ہے۔ اسی درمیان چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے بی جے پی کو لے کر کہا کہ وہ خود کو کیڈر پر مبنی پارٹی بتاتی ہے، لیکن وہ کیڈر کا غلط استعمال کرتی ہے۔ اگر وہ کیڈر کی بات سنتی ہوتی تو حکومت میں 15 سال رہنے کے بعد 15 سیٹوں تک نہیں محدود ہوتی۔

کانگریس کی میٹنگ میں حصہ لینے کے مقصد سے دہلی روانہ ہونے سے قبل بگھیل نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی کہتی ہے وہ کیڈر بیس پارٹی ہے، وہ کیڈر سے کہتی ہے کہ وہ ان کے لیے ووٹ یکجا کرنے کا کام کرے، لیکن کیڈر کی بات نہیں سنتی۔ اگر اپنے کیڈر کی وہ بات سن لیتے تو 15 سال اقتدار میں رہنے کے بعد 15 سیٹ تک محدود نہیں ہوتے۔ یہاں ماتھر صاحب کی بھی نہیں چلی اس لیے ان کا بھی آنا بند ہو گیا۔‘‘

جب نامہ نگاروں نے بھوپیش بگھیل سے سوال کیا کہ ریاست میں اسمبلی انتخاب کا اعلان ہو چکا ہے، کانگریس اپنے امیدواروں کی فہرست کب جاری کرے گی؟ تو بگھیل نے کہا کہ ’پتری پکش‘ کے بعد 15 اکتوبر کو امیدواروں کی فہرست جاری ہو سکتی ہے۔