موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر: قصوروار عارض خان کو سزائے موت دینے سے دہلی ہائی کورٹ نے کیا انکار

بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر معاملہ میں آج دہلی ہائی کورٹ نے انتہائی اہم فیصلہ صادر کیا۔ عدالت نے قصوروار عارض خان کے لیے سنائی گئی سزائے موت کے فیصلہ کو بدل دیا ہے اور اب اسے عمر قید کی سزا بھگتنی ہوگی۔ یہ فیصلہ جسٹس سدھارتھ مردُل کی بنچ نے سنایا ہے۔ دراصل بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے دوران دہلی پولیس کے انسپکٹر موہن چند شرما کا قتل کر دیا گیا تھا جس کا قصوروار عارض خان کو ٹھہرایا گیا ہے۔

عارض خان کے لیے موت کی سزا سے متعلق فیصلہ سنائے جانے کے بعد مخالفت میں ایک عرضی داخل کی گئی تھی۔ اس عرضی پر سماعت کے دران عارض کے وکیل نے سزائے موت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ ان کے موکل عارض خان کی اصلاح نہیں کی جا سکتی، اور اگر اصلاح کی کوئی گنجائش نہیں ہے تو بھی عمر قید کی سزا کا اصول ہے۔

دہلی پولیس کی طرف سے پیش اسپیشل پبلک پرازیکیوٹر راجیش مہاجن نے اس معاملے میں دلیل دی کہ ایک وردی پہنے پولیس افسر کا قتل غیر معمولی واقعہ ہے۔ ایسے میں قصوروار کو سزائے موت ملنی چاہیے۔ عارض کی سماجی جانچ اور نفسیاتی تجزیہ کی رپورٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے یہ بھی بتایا گیا کہ جیل میں عارض خان کا رویہ غیر اطمینان بخش رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ساکیت کورٹ نے 8 مارچ 2021 کو عارض خان کو قصوروار ٹھہرایا تھا اور 15 مارچ 2021 کو موت کی سزا سنائی تھی۔ اس کے بعد سزائے موت کی تصدیق کے لیے معاملہ دہلی ہائی کورٹ میں زیر التوا تھا۔ حالانکہ اب عدالت نے واضح کر دیا کہ عارض کو سزائے موت نہیں دی جائے گی۔