موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ہیرو موٹوکارپ کے چیف ایگزیکٹیو افسر پون منجال کے خلاف ایف آئی آر درج

دہلی پولیس نے ہیرو موٹوکارپ کے چیف ایگزیکٹیو افسر (سی ای او) پون منجال اور کچھ دیگر عہدیداروں کے خلاف جعلسازی، دھوکہ دہی اور پانچ کروڑ روپے سے زیادہ کے فرضی بل بنانے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ منجال کے خلاف پہلے سے ہی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ منی لانڈرنگ معاملے کی جانچ کر رہا ہے، حالانکہ تازہ معاملہ اس سے متعلق نہیں ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق شکایت دہندہ برونس لاجسٹکس پرائیویٹ لمیٹڈ کے روپ درشن پانڈے نے ہیرو موٹوکارپ لمیٹڈ (ایچ ایم سی ایل) کو ملزم نمبر 1، منجال کو ملزم نمبر 2، وکرم سیتارام کو ملزم نمبر 3، ہری پرکاش گپتا کو ملزم نمبر 4 اور ڈیلائٹ ہیسکنس اینڈ سیلس لمیٹڈ میں پارٹنر منجلا بنرجی کو ملزم نمبر 5 بنایا ہے۔ سیتارام اور گپتا دونوں ہیرو موٹوکارپ میں عہدیدار ہیں۔

شکایت دہندہ نے الزام لگایا ہے کہ ملزم نمبر 1، 2، 3 اور 4 ادارہ میں عہدیدار اور اہم ایمپلائر ہیں، جبکہ ملزم نمبر 5 سال 2009 اور 2010 میں کمپنی کی منظور شدہ آڈیٹر تھیں اور اس طرح یہاں سبھی ملزمین نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر جعلسازی، دھوکہ دہی اور ہیرو موٹوکارپ کے اکاؤنٹس بک میں ہیرا پھیری کرنے کے ناجائز کام کیے ہیں۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ’’سبھی اپنے مجرمانہ اعمال اور غلطی کے مشترکہ طور سے اور الگ الگ ذمہ دار ہیں۔ شکایت دہندہ کے ذریعہ لگائے گئے الزامات کی شروعات میں یہ کہا گیا ہے کہ ملزم کمپنی نمبر 1 نے ملزم نمبر 2 اور 3 کے ساتھ مل کر 2009 اور 2010 کے کُل 59452525 روپے کے فرضی ماہانہ بل بنائے، جس میں کہا گیا تھا کہ مہینہ وار بلوں پر دستخط کیے گئے اور ان پر ’ہیرو موٹوکارپ لمیٹڈ‘ کی مہر لگی ہے۔ انھوں نے شکایت دہندہ کمپنی کے خلاف اپنے اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 59452525 روپے کا غلط ڈیبٹ بیلنس بنایا ہے اور فرضی بلوں کے خلاف 5551777 روپے کا غلط سی ای این وی اے ٹی (سروس ٹیکس) کریڈٹ حاصل کیا ہے اور انکم ٹیکس محکمہ کو دھوکہ دیا۔‘‘

الزام میں کہا گیا ہے کہ شکایت دہندہ کمپنی نے 2009 اور 2010 میں کبھی یہ بل جمع نہیں کیے تھے کیونکہ کمپنی رجسٹرار، نئی دہلی کے ذریعہ جاری سرٹیفکیٹ آف انکورپوریشن ’ہیرو موٹوکارپ لمیٹڈ‘ 27 جولائی 2011 کو وجود میں آیا تھا۔ ایف آئی آر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شکایت دہندہ برینس لاجسٹکس سالیوشنز لمیٹڈ کا تنہا مالک ہے۔ وہ برینس لاجسٹکس پرائیویٹ لمیٹڈ میں پروموٹرس بھی ہے جس کے ساتھ ایچ ایم سی ایل نے مین پاور اور متعلقہ سروسز کے لیے معاہدہ کیا تھا۔

شکایت دہندہ کمپنی نے الزام لگایا ہے کہ اس نے جعلسازی اور دھوکہ دہی کے مذکورہ بالا اعمال کی جانکاری ملزم نمبر 5 (میسرس فرگیوسن میں اُس وقت کی آڈیٹر) کو دی تھی، جس نے 16 اکتوبر 2019 کو جواب میں کہا تھا کہ اس نے 2009 اور 2010 کے ملزم کو اکاؤنٹس کا آڈٹ کیا ہے۔ حالانکہ انھوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ اکاؤنٹس میں کیا ملا ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ تھانے میں تعزیرات ہند کی دفعہ 463، 467، 468، 471، 34، 477اے، 120بی اور 406 کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے اور آگے کی جانچ جاری ہے۔