موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

جماعت اسلامی ہند نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تصادم کے بھڑکنے پر تشویش کا اظہار کیا

جماعت اسلامی ہند نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حالیہ بڑے پیمانے پر ہونے والی تصادم پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔میڈیا کو جاری بیان میں جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حالیہ بڑے پیمانے پر ہونے والے تصادم پر ہمیں گہری تشویش ہے، یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ موجودہ کشیدگی تشدد کا نتیجہ فلسطینیوں کے خلاف انتہائی دائیں بازو کی نیتن یاہو حکومت کی طرف سے شروع کی گئی اسرائیلی جارحیت کا نتیجہ ہے جس میں اب تک بچوں سمیت سینکڑوں افراد کی جانیں جا چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی علاقوں پر قبضے اور مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی وجہ سےحالات سنگین ہورہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو اسرائیل کے اس ظالمانہ روش پر کنٹرول کرتے ہوئے یہودی بستیوں کی توسیع کو فوری طور پر روکنا چاہیے۔ ہم عالمی برادری سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل کو ان واقعات کو غزہ میں فلسطینی شہریوں کے خلاف غیر متناسب جنگ شروع کرنے کے بہانے استعمال کرنے سے روکے۔

جماعت اسلامی ہند گاندھی جی کے اس مشہور قول پر یقین رکھتی ہے جو ہندوستان کی قدیم پالیسی کی بنیاد رہی ہے کہ ‘فلسطین فلسطینیوں کا ہے جس طرح انگلستان انگریزوں کا ہے یا فرانس فرانسیسیوں کا ہے۔‘‘ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ حکومت ہند فلسطینیوں کی حمایت کرے، فلسطینیوں کی اپنی ریاست قائم کرنے میں مدد کرے اور خطے میں امن قائم کرنے کے لیے اپنا عالمی اثر و رسوخ استعمال کرے۔”