موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

این سی پی کا باس کون، شرد پوار یا اجیت پوار؟ الیکشن کمیشن میں آج ہوگی سماعت

ممبئی: الیکشن کمیشن میں آج شرد پوار اور اجیت پوار دھڑے کی طرف سے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے نام اور انتخابی نشان پر دعووں کے بارے میں دائر درخواست پر سماعت کی جائے گی۔ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا تھا جب اجیت پوار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی حکومت میں شامل ہو گئے تھے۔ اس کے بعد اجیت نے بھی این سی پی پر اپنا دعویٰ پیش کیا۔

چچا شرد پوار نے اپنے بھتیجے کے اس اقدام کے خلاف الیکشن کمیشن سے رجوع کیا۔ اب دونوں گروپوں کو الیکشن کمیشن کے سامنے اپنے اپنے موقف پیش کرنا ہوں گے۔ اس سے قبل الیکشن کمیشن نے شرد پوار گروپ کے خلاف وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا تھا۔ اجیت پوار کے دھڑے کی طرف سے دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ اجیت پوار کو این سی پی کا صدر قرار دیا جانا چاہئے اور انتخابی نشان آرڈر 1968 کی دفعات کے تحت پارٹی کا نشان بھی الاٹ کیا جانا چاہئے۔

اس معاملے میں شرد پوار نے کہا کہ ’’سبھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ این سی پی کی بنیاد کس نے رکھی اور کس کی پارٹی ہے۔ اس کے بعد بھی پارٹی پر قبضہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ فیصلہ جو بھی ہو، گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ میں نے کئی بار مختلف نشانوں پر الیکشن لڑا اور جیتا۔‘‘ وہیں، اجیت پوار کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن جو بھی فیصلہ کرے گا اسے قبول کیا جائے گا۔