موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ملازمین نے پرانی پنشن کے لیے مرکز کے خلاف کھولا محاذ، بحالی کے لیے دہلی میں زوردار مظاہرہ

نئی دہلی: ملک بھر سے ہزاروں سرکاری ملازمین اتوار کو راجدھانی دہلی کے رام لیلا میدان میں جمع ہوئے اور پرانی پنشن اسکیم (او پی ایس) کو بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مودی حکومت کے خلاف محاذ کھولا۔ نیشنل موومنٹ فار اولڈ پنشن اسکیم کے زیر اہتمام ‘پنشن شنکھ ناد مہا ریلی’ کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد موجودہ نیشنل پنشن اسکیم (این پی ایس) کے بجائے پرانی پنشن اسکیم کو نافذ کرنے کے لیے مرکز پر دباؤ ڈالنا تھا۔

ریلی کے منتظمین نے میڈیا کو بتایا کہ چار ریاستیں پہلے ہی او پی ایس کے نفاذ کا اعلان کر چکی ہیں، تو مرکز اسے کیوں نافذ نہیں کر سکتا؟ رام لیلا میدان میں منعقد ہونے والی ریلی میں ملک کے مختلف حصوں سے ہزاروں سرکاری ملازمین نے حصہ لیا۔ پونے، مہاراشٹر سے آئے جتیندر نے کہا کہ ملک میں 2004 سے اور مہاراشٹر میں 2005 سے پرانی پنشن اسکیم بند ہے۔ ہمیں این پی ایس (نئی پنشن اسکیم) نہیں چاہیے، ہمیں یہ اسٹاک مارکیٹ اسکیم نہیں چاہیے۔ آئین بھی کہتا ہے کہ پرانی پنشن ہمارا حق ہے۔‘‘

یہ ریلی اس سال مارچ میں سرکاری ملازمین کے لیے پرانی پنشن اسکیم کا انتخاب کرنے کے لیے مرکزی حکومت کی جانب صرف ایک مرتبہ انتخاب کرنے کا اختیار دئے جانے کے بعد منعقد کی گئی۔ عملے کی وزارت کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق، جو ملازمین 22 دسمبر 2003، جس تاریخ کو این پی ایس کو مطلع کیا گیا تھا، سے پہلے مشتہر یا مطلع شدہ پوسٹوں پر مرکزی حکومت کی خدمات میں شامل ہوئے تھے، وہ سنٹرل سول سروسز (پنشن) رولز، 1972 (اب 2021) کے تحت پرانی پنشن اسکیم میں شامل ہونے کے اہل ہیں۔ سرکاری ملازمین کا ایک منتخب گروپ 31 اگست 2023 تک اس اختیار کا انتخاب کر سکتا ہے۔

وزارت نے کہا تھا کہ ایک بار استعمال ہونے والا آپشن حتمی ہوگا۔ یہ قدم اس حوالے سے مختلف نمائندگیوں، ریفرنسز اور عدالتی فیصلوں کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وہ سرکاری ملازمین جو اس اختیار کو استعمال کرنے کے اہل ہیں لیکن جو مقررہ تاریخ تک اختیار استعمال نہیں کرتے وہ قومی پنشن سسٹم کے تحت آتے رہیں گے۔ او پی ایس کے تحت ملازمین کو ایک متعین پنشن ملتی ہے۔ ایک ملازم آخری دی گئی تنخواہ کا 50 فیصد بطور پنشن کا حقدار ہے۔ این پی ایس کے تحت ملازمین پنشن کے لیے اپنی بنیادی تنخواہ کا 10 فیصد حصہ دیتے ہیں جبکہ حکومت 14 فیصد حصہ دیتی ہے۔ او پی ایس کو این ڈی اے حکومت نے 2003 میں یکم اپریل 2004 سے بند کر دیا تھا۔