موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کے لیے اآئین میں ترامیم کرنی ہوں گی: چیئرمین لا کمیشن

نئی دہلی: ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کے حوالے سے ملک بھر کے سیاسی حلقوں اور عوام الناس کے اجلاسوں میں زوردار بحث جاری ہے۔ ان بحثوں کے درمیان لا کمیشن کی چیئرپرسن ریتو راج اوستھی نے اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ملک میں ایک الیکشن کرانے سے پہلے حکومت کو آئین میں کچھ اہم ترامیم کرنا ہوں گی۔

ریتو راج اوستھی کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہیں اور 22ویں لا کمیشن کے چیئرمین بھی ہیں۔ حکومت نے لا کمیشن کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ حکومت کو ایک ایسے عمل سے آگاہ کرے جس کے ذریعے ملک میں ہونے والے انتخابات کو بیکوقت کرایا جا سکے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، رتوراج اوستھی نے ایک ملک ایک انتخاب کے لیلے ٹائم لائن بتانے سے انکار کر دیا۔

خیال رہے کہ مرکز کی مودی حکومت نے ایک ملک، ایک انتخاب کے امکانات کے لیے سابق صدر رام ناتھ کووند کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ یہ کمیٹی ملک میں انتخابات کے امکانات کے علاوہ اس کے نفاذ پر بھی کام کر رہی ہے۔ اس کمیٹی کے قیام کے بعد سے پورے ملک میں اس کی تبدیلیوں اور سیاست، آئین اور پورے ملک کے وفاقی ڈھانچے پر اثرات کے حوالے سے بحث شروع ہو گئی ہے۔

ایچ ٹی میڈیا سے بات کرتے ہوئے لا کمیشن کے چیئرمین ریتو راج نے کہا ’’ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کب ہوں گے۔ اس کے لیے کوئی ٹائم لائن نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی اس ٹائم لائن کا فیصلہ کرنا ممکن ہے۔ ہم اس کے قانونی امکانات کو تلاش کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، کیونکہ ایسا کرنا ناممکن نہیں ہے۔‘‘