موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

’ناری شکتی وَندن ادھینیم‘ کو ملی صدر دروپدی مرمو کی منظوری، خاتون ریزرویشن بل بن گیا قانون

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے آج ’ناری شکتی وَندن ادھینیم‘ یعنی خاتون ریزرویشن بل کو منظوری دے دی۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے یہ بل پاس ہونے کے بعد منظوری کے لیے صدر جمہوریہ کے پاس بھیج دیا تھا، جس پر انھوں نے مہر ثبت کر دیا۔ یہ بل 20 ستمبر کو لوک سبھا سے اور 21 ستمبر کو راجیہ سبھا سے تقریباً سبھی پارٹیوں کی حمایت کے ساتھ پاس ہوا تھا۔

موصولہ اطلاع کے مطابق صدر جمہوریہ مرمو نے 28 ستمبر کو اس بل کو منظوری دی جس کے نافذ ہونے پر لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن حاصل ہو سکے گا۔ بل کے پارلیمنٹ سے پاس ہونے پر صدر جمہوریہ نے کہا تھا کہ یہ جنسی انصاف کے لیے ہمارے وقت کی سب سے انقلابی تبدیلی ہوگی۔

واضح رہے کہ حکومت نے گزشتہ 18 سے 22 ستمبر تک کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا تھا۔ اس دوران دو تاریخی کام ہوئے۔ پہلے تو پرانے پارلیمنٹ ہاؤس سے سبھی کام کو پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں منتقل کیا گیا، اور پھر دونوں ایوانوں سے خاتون ریزرویشن بل پاس ہوا۔ حالانکہ اب قانون بن جانے کے بعد بھی یہ فوری طور پر نافذ نہیں ہوگا، کیونکہ حکومت نے جو قانون کا مسودہ تیار کیا ہے اس میں لکھا ہے کہ مردم شماری اور حد بندی کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی یہ نافذ ہوگا۔ اس معاملے میں اپوزیشن پارٹیوں نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا اور کہا تھا کہ اس طرح کی شرط کو ہٹایا جائے۔ لیکن حکومت نے اپوزیشن کے اس مطالبہ کو مسترد کر دیا۔