موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

مودی حکومت کی بات نہیں مانے گا میزورم، میانمار کے پناہ گزینوں کا بایومیٹرک ڈاٹا جمع کرنے سے انکار

میرزورم حکومت نے میانمار کے پناہ گزینوں سے متعلق آج ایک انتہائی اہم فیصلہ کیا ہے جو مرکز کی مودی حکومت کے خلاف جا رہا ہے۔ دراصل میزورم حکومت نے مودی حکومت کی ایک ہدایت کو نظر انداز کرتے ہوئے ریاست میں میانمار کے پناہ گزینوں کا بایومیٹرک ڈاٹا جمع نہیں کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ رواں سال اپریل میں مرکزی وزارت داخلہ نے میزورم اور منی پور دونوں کی حکومتوں کو اپنی اپنی ریاستوں میں غیر قانونی پناہ گزیوں کے بایومیٹرک اور دیگر تفصیلات جمع کرنے کی ہدایت دی تھی۔ یہ دونوں ریاستیں میانمار کی سرحد سے ملتی ہیں، اسی وجہ سے مرکزی حکومت نے ہدایت جاری کی تھی۔

جون ماہ میں مرکزی حکومت نے ریاستوں کو ہدایت دی تھی کہ مہم ستمبر کے آخر تک مکمل ہو جانا چاہیے۔ اس نے دونوں ریاستوں کو ایک منصوبہ تیار کرنے اور عمل درآمد شروع کرنے کی ہدایت دی۔ میزورم حکومت نے میانمار میں فوج کی کارروائی سے بھاگ رہے پناہ گزینوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں۔ اس نے پہلے بھی سرحد بند کرنے کے مرکزی حکومت کے احکامات کو نظر انداز کیا تھا۔

میزورم کی بات کریں تو اس شمال مشرقی ریاست میں رواں سال اسمبلی انتخاب بھی ہونے ہیں۔ اب جبکہ جورمتھانگا کی قیادت والی میزو نیشنل فرنٹ (ایم این ایف) حکومت نے کہا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کا بایومیٹرک ڈاٹا جمع نہیں کرے گی۔ اس کے علاوہ منی پور حکومت نے بھی وقت بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ منی پور نے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے افسروں کی مدد سے 29 جولائی کو عمل شروع کیا، لیکن وزیر اعلیٰ بیرین سنگھ نے گزشتہ ہفتہ کہا تھا کہ وہ مرکز سے مدت کار ایک سال بڑھانے کے لیے کہیں گے، کیونکہ جاری تشدد کے سبب اس عمل میں تاخیر ہو رہی ہے۔