موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

رمیش بدھوڑی بدزبانی معاملے کی جانچ خصوصی استحقاق کمیٹی کے حوالے!

نئی پارلیمنٹ میں بی جے پی لیڈر رمیش بدھوڑی کے ذریعہ نازیبا الفاظ کا استعمال کیے جانے کے معاملے میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے جانچ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی اور بی ایس پی رکن پارلیمنٹ دانش علی معاملہ کو خصوصی استحقاق کمیٹی کے پاس بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ جانکاری 28 ستمبر کو افسران کے ذریعہ دی گئی اور بتایا گیا کہ دونوں اراکین پارلیمنٹ کے خلاف ملی شکایت کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔

دراصل کئی اراکین پارلیمنٹ کے ذریعہ لوک سبھا اسپیکر کو خط لکھا گیا تھا اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے جواب میں بی جے پی اراکین پارلیمنٹ نشی کانت دوبے، روی کشن اور ہرناتھ سنگھ یادو نے بھی لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھا اور دانش علی کے رویے کی جانچ کر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ان شکایتوں کو دیکھتے ہوئے رمیش بدھوڑی اور دانش علی کے درمیان ہوئی زبانی جنگ کا معاملہ اسپیکر اوم برلا نے پارلیمنٹ کی خصوصی استحقاق کمیٹی کو بھیج دیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں جب پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس چل رہا تھا تو لوک سبھا میں چندریان-3 کی کامیابی کو لے کر بحث ہوئی۔ اس دوران رمیش بدھوڑی نے دانش علی کے خلاف کئی نسلی تبصرے کیے تھے جس پر اپوزیشن پارٹیوں نے سخت اعتراض ظاہر کیا۔ اپوزیشن پارٹیاں ہی نہیں، بی جے پی کے کچھ لیڈرانبھی رمیش بدھوڑی کے بیان سے حیران ہیں۔ بی جے پی نے بدھوڑی کو وجہ بتاؤ نوٹس بھی بھیجا ہے، لیکن دوسری طرف پارٹی نے انھیں راجستھان انتخاب کے پیش نظر اہم ذمہ داری بھی سونپ دی ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں اسے بی جے پی کی دوہری پالیسی ٹھہرا رہی ہیں اور بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔