موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

منی پور میں میتی نوجوانوں کے قتل پر احتجاجی مظاہرے ، سی بی آئی کی ٹیم امپھال روانہ

ذرائع نے بتایا کہ ایجنسی کے خصوصی ڈائریکٹر اجے بھٹناگر کی قیادت میں سی بی آئی حکام کی ایک ٹیم بدھ یعنی آج ایک خصوصی پرواز سے امپھال پہنچے گی تاکہ شمال مشرقی ریاست میں 6 جولائی کو لاپتہ ہونے والے دو طالب علموں کے "اغوا اور قتل” کی تحقیقات کی جا سکے۔

انگریزی روزنامہ ’دی ہندوستان ٹائمس‘ میں شائع خبر کے مطابق یہ فیصلہ منی پور حکومت کی طرف سے کیس کو سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے حوالے کیے جانے کے چند گھنٹوں کے اندر لیا گیا۔یہ ٹیم ایسے افسران پر مشتمل ہوگی جو خصوصی جرائم، کرائم سین کا خاکہ تیار کرنا ، تفتیش اور تکنیکی نگرانی میں مہارت رکھتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اس میں سی بی آئی کی ایلیٹ سینٹرل فارنسک سائنس لیبارٹری کے ماہرین بھی ہوں گے۔

واضح رہے پیر کو سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی جس میں دو طالب علموں – فیجام ہیمجیت (20) اور ہیجام لنتھونگمبی (17) – کی لاشوں  کو دکھایا گیا۔پولیس نے پہلے کہا تھا کہ دونوں کے ٹھکانے معلوم نہیں تھے اور ان کے موبائل فون بند پائے گئے تھے۔پولیس نے بتایا تھا کہ ان کے موبائل ہینڈ سیٹس کی آخری لوکیشن لامدان میں ٹریس کی گئی تھی، جو چوراچند پور ضلع میں سرمائی پھولوں کے سیاحتی مقام کے قریب ہے۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں، منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ نے لکھا کہ  "لاپتہ طلباء کی المناک موت کے حوالے سے کل سامنے آنے والی تکلیف دہ خبروں کی روشنی میں، میں ریاست کے لوگوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ریاست اور مرکزی حکومت دونوں ہی ان کے ساتھ ہیں۔ مجرموں کو پکڑنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید  کہا کہ ریاست میں سی بی آئی افسران کی موجودگی "اس معاملے کو تیزی سے حل کرنے کے لیے ہمارے حکام کے عزم کو ظاہر کرتی ہے”۔سنگھ نے کہا، "میں قصورواروں کو تلاش کرنے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ  سے مسلسل رابطے میں ہوں۔”

ایک سینئر افسر نے بتایا کہ متوفی طلباء کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد کسی بھی واقعے کو روکنے کے لیے سیکورٹی اہلکاروں کو چوکس رکھا گیا ہے اور اضافی اقدامات کیے گئے ہیں۔حکومت نے لوگوں کو یقین دلایا ہے کہ "فیجام ہیمجیت اور ہیجام لنتھونگمبی کے اغوا اور قتل میں ملوث تمام افراد کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔