موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ایم سی ڈی ایوان میں رمیش بدھوڑی کے خلاف لایا گیا مذمتی قرارداد، خوب ہوا ہنگامہ

گزشتہ دنوں ختم ہوئے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران لوک سبھا میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی نے دانش علی کے خلاف جو نازیبا اور غیر پارلیمانی بیان بازی کی اس پر آج دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے ایوان میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ ایم سی ڈی ایوان میں 26 ستمبر کو رمیش بدھوڑی کے خلاف پارلیمنٹ میں بولے گئے قابل اعتراض الفاظ کو لے کر مذمتی قرارداد لایا گیا۔

مذمتی قرارداد ایم سی ڈی ایوان میں عآپ کی کونسلر موہنی جندوال نے پڑھا اور ایوان میں اسے پیشکرتے ہی ہنگامہ شروع ہو گیا۔ ایوان کی میٹنگ منگل کی دوپہر 2 بجے شروع ہونی تھی، لیکن یہ میٹنگ 2.30 بجے شروع ہوئی۔ ایوان شروع ہوتے ہی دیر سے کارروائی شروع ہونے کے سبب اپوزیشن کی طرف سے ہنگامہ ہوا۔ ہنگامہ اتنا بڑھ گیا کہ عآپ کونسلر کی طرف سے ’رمیش بدھوڑی استعفیٰ دو‘ کے نعرے لگنے لگے۔ دوسری طرف بی جے پی کے کونسلروں کی طرف سے کیجریوال کے خلاف بھی خوب نعرے لگے۔ پھر جواب میں وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف بھی نعرے بازی شروع ہو گئی۔

دہلی کی میئر ڈاکٹر شیلی اوبرائے نے ایوان میں ہوئے اس ہنگامے کو لے کر سبھی کو پھٹکار لگائی۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہر بار ایوان شروع ہوتے ہی ہنگامہ ہو جاتا ہے۔ کسی بھی ایشو پر بحث نہیں ہو پاتی ہے۔ پھر شکایت ہوتی ہے کہ کسی کو بولنے نہیں دیا جاتا۔ اس لیے ہنگامہ نہ کریں۔‘‘ اس کے بعد 15 منٹ کے لیے ایوان کو ملتوی کر دیا گیا۔