موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کلک فارمز فراڈ: لوگ سوشل میڈیا پر نوکری کے جھانسوں کا شکار نہ بنیں، یوپی پولیس

لکھنؤ: یوپی پولیس نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر نوکری کے جھانسوں کا شکار نہ بنیں۔ یہ ایڈوائزری اس وقت سامنے آئی ہے جب کلک فارم فراڈ کے 50 سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور بہت سے فراڈ اب بھی رپورٹ نہیں ہوئے ہیں۔یوپی پولیس کے سائبر سیل کا مقصد لوگوں کو اس گھوٹالے کے بارے میں آگاہ کرنا اور انہیں متنبہ کرنا ہے کہ وہ منافع بخش نوکریوں کے جال میں پھنسنے سے باز رہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ایسے گھپلوں کی وجہ سے لکھنؤ کے باشندگان کو اب تک 17 کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ کلک فارمز میں سامان اور خدمات کو اچھی آن لائن ریٹنگ دے کر منافع کمانے کا جھانسہ دیتے ہیں۔ پولیس کے مطابق، دھوکہ دہی کرنے والے صارفین (ٹیلی گرام اور واٹس ایپ پر) سے رابطہ کرتے ہیں اور پارٹ ٹائمر کے طور پر کام کر کے روزانہ 5000 روپے تک کمانے کی لالچ دیتے ہیں۔

پولیس نے کہا، ’’صارفین جب پیشکش کو قبول کر لیتے ہیں تو انہیں ایک ‘ٹاسک مینیجر’ کے ذریعے چلائے جانے والے ٹیلی گرام چینل میں شامل کیا جاتا ہے، جو انہیں ‘ٹاسک’ تفویض کرتا ہے۔ پھر، متاثرین سے کہا جاتا ہے کہ وہ یوٹیوب کی مخصوص ویڈیوز کو ‘لائک’ کریں ‘مینیجر’ کو اسکرین شاٹ بھیجیں۔‘‘

جیسے جیسے صارفین یوٹیوب ویڈیوز کو پسند کرتے رہتے ہیں، کمائی گئی رقم سکیمرز کی ‘جاب ایپ’ پر نظر آتی ہے۔ یہ کمائی صرف دکھاوے کے لیے ہوتی ہے اور دھوکہ باز صارف کو کوئی رقم نہیں بھیجتے۔ ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ سائبر مجرم اپنی جمع شدہ آمدنی حاصل کرنے کے لیے صارفین سے کچھ ٹوکن رقم (مثال کے طور پر 5000 روپے) ‘سرمایہ کاری’ کرنے کے لیے کہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’’ایک بار رقم کی منتقلی کے بعد دھوکہ باز صارفین کو واٹس ایپ اور ٹیلی گرام پر بلاک کر دیتے ہیں۔‘‘ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جمع شدہ رقم وصول کرنے کے لیے اپنے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات بھیجیں۔ انہوں نے کہا، جیسے ہی صارفین اپنے بینک کی تفصیلات شیئر کرتے ہیں، سائبر مجرمان ان کے کھاتوں سے رقم چرا لیتے ہیں۔

کلک فارم فراڈ کیسز کی تحقیقات کرنے والے سائبر سیل کے حکام نے بتایا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ میں شہر سے ایسے 24 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ تفتیشی افسر سوربھ مشرا نے کہا کہ آپریٹر دبئی سے کام کرتے ہیں۔