موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

جماعت اسلامی ہند  نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ کی نااہلی کا مطالبہ کیا

جماعت اسلامی ہند نے بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی کے خلاف پارلیمنٹ میں بی جے پی ایم پی رمیش بڈھوری کی جانب سے استعمال کی گئی غلیظ، جارحانہ زبان کی مذمت کی ہے۔

میڈیا کے لئے جاری ایک بیان میں جماعت اسلامی ہند کے نیشنل میڈیا سکریٹری کے کے سہیل نے کہاکہ "لوک سبھا میں بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی کے خلاف بی جے پی کے ایم پی رمیش بڈھوری کی طرف سے استعمال کی گئی جارحانہ اور غلیظ زبان سے ہر مہذب ہندوستانی کو تکلیف ہوئی ہے اور پارلیمنٹ کے معیار اور وقار کو پست کیا ہے۔

جماعت اسلامی نے کہا کہ ایک رکن پارلیمنٹ کے خلاف نسلی گالیاں اور اس کی مذہبی شناخت کو نشانہ بنانا اوران کے لئے توہین آمیز زبان استعمال کرنا ہندوستان میں پوری مسلم کمیونٹی سے نفرت کا واضح ثبوت ہے اور اس کا مقصد اسے نیچا دکھانا ہے۔

بڈھوری نے ایک ایسا جرم کیا ہے جس نے ایوان کے وقار کو مجروح کیا ہے۔جبکہ یہ جان کر راحت ملی ہے کہ بڈھوری کے توہین آمیز ریمارکس کو ریکارڈ بک سے خارج کر دیا گیا ہے۔ ایوان زیریں نے انہیں خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اس طرح کے رویے کو دہراتے ہیں تو سخت کارروائی کی جائے گی اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’میں اس رکن کے بیان سے اپوزیشن کو تکلیف پہنچنے پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔‘‘ تاہم، جماعت اسلامی اسلامی ہند کو لگتا ہے کہ ایوان زیریں کے فلور پر بدھوڑی کی کارروائی محض ایک تضحیک نہیں ہے جسے ہلکی سی سرزنش کے ساتھ معاف کیا جا سکتا ہے۔ یہ ہماری پارلیمنٹ کی نئی عمارت جس نے لوگوں کے منتخب کردہ قانون سازوں کے اس قدر گھٹیا اور شرمناک رویے کا مشاہدہ کیا ہے۔