موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ڈی یوایس یو انتخابات میں اے بی وی پی نے تین اور این ایس یو آئی نے ایک عہدے پر جیت درج کی

اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے ہفتہ کو دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (ڈی یو ایس یو) کے انتخابات میں صدر سمیت تین عہدوں پر کامیابی حاصل کی، جب کہ نیشنل اسٹوڈنٹس یونین (این ایس یو آئی) نے ایک عہدہ جیتا۔

قابل ذکر ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ڈی یو میں تین سال بعد طلبہ یونین کے انتخابات ہوئے ہیں۔ بی جے پی رہنما نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں اے بی وی پی کی زبردست جیت پر پریشد کے تمام کارکنوں کو دلی مبارکباد۔ یہ جیت قومی مفاد کو اولین ترجیح ماننے والے نظریے میں نوجوان نسل کے یقین کی عکاسی کرتی ہے۔ مجھے پورا بھروسہ ہے کہ پریشد کے کارکنان نوجوانوں میں سوامی وویکانند جی کے نظریات اور قوم پرستی کے جذبے کو زندہ رکھنے کے لیے مسلسل عزم کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔ انہوں نے پارٹی کے تمام کارکنوں کو مبارکباد دی۔‘‘

ڈی یو ایس یو انتخابات میں اے بی وی پی کے تشار ڈیڑھا نے صدر کے عہدے پر کامیابی حاصل کی۔ ڈیڑھا کو 23 ہزار 460 ووٹ ملے ہیں، جب کہ دوسرے نمبر پر رہے این ایس یو آئی کے ہتیش گلیا کو 20 ہزار 345 ووٹ ملے ہیں۔ وہیں وائس پریزیڈنٹ کے عہدے پر این ایس یو آئی کے ابھی دہیا نے جیت حاصل کی ہے۔ انہیں 22331 ووٹ ملے ہیں، جب کہ دوسرے نمبر پر رہے اے بی وی پی کے سوشانت دھنکھر کو 20502 ووٹ ملے۔ سکریٹری کے عہدے پر اے بی وی پی کی ارپیتا نے کامیابی حاصل کی ہے۔ انہیں 24534 ووٹ ملے، جبکہ دوسرے نمبر پر این ایس یو آئی کی یکشنا شرما کو 11597 ووٹ ملے۔ اے بی وی پی کے سچن بینسلا کو جوائنٹ سکریٹری کا عہدہ حاصل ہوا ہے۔ انہیں 24955 ووٹ ملے، جبکہ دوسرے نمبر پر رہنے والے این ایس یو آئی کے شبھم کمار کو 14960 ووٹ ملے۔