نئی دہلی: راہل گاندھی کے کنور دانش علی کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کرنے کے بعد سابق وزیر اور کانگریس لیڈر اجے ماکن نے ان کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسی دنیا میں جہاں تقسیم بہت عام ہے، راہل جی کا سیکولر نقطہ نظر ہمیں اتحاد میں ہندوستان کی موروثی طاقت کی یاد دلاتا ہے۔
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کے بھری پارلیمنٹ میں بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی کو گالیاں بکنے کے بعد دانش علی کو مختلف پارٹیوں کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ کانگریس، ٹی ایم سی، سماجوادی پارٹی اور آر جے ڈی کے مختلف لیڈران نے دانش علی کے تئیں یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ وہیں کانگریس لیڈر راہل گاندھی گزشتہ شام کنور دانش علی کی رہائش گاہ پہنچے ان سے ملاقات کی اور انہیں گلے بھی لگایا۔
اجے ماکن نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا ’’پوری تاریخ میں ایسے رہنما ابھرتے ہیں جو اپنی قوم کی روح کو مجسم بناتے ہیں۔ راہل گاندھی میں مجھے ہندوستان کی قدیم اقدار اور اس کے متحرک تنوع کا عکس نظر آتا ہے۔ ہندوستانی جمہوریت کے تئیں ان کی غیر متزلزل وابستگی، ہمارے آئین کے تئیں ان کا گہرا احترام اور ان کی ثابت قدمی ان کی قیادت کا ثبوت ہے۔‘‘
انہوں نے مزید لکھا ’’ان کی قیادت میں کانگریس مین ہونا محض سیاسی انتخاب نہیں ہے؛ یہ اقدار، سالمیت اور تنوع یعنی ہندوستان کا عہد ہے۔ میں اس جڑاؤ پر فخر محسوس کرتا ہوں اور اس تبدیلی کے وقت میں ایسے لیڈر کے ساتھ ساتھ چلنا ایک اعزاز سمجھتا ہوں۔‘‘
اجے ماکن نے پوسٹ میں کہا ’’ایک ایسی دنیا میں جہاں تقسیم بہت عام ہے، راہل جی کا سیکولر نقطہ نظر ہمیں اتحاد میں ہندوستان کی موروثی طاقت کی یاد دلاتا ہے۔ وہ بے خوف جذبے کے ساتھ چیلنجوں، لازوال اخلاقیات اور ان اصولوں کو برقرار رکھتے ہیں، جنہیں ہماری قوم نے صدیوں میں حاصل کیا ہے۔‘‘
اجے ماکن نے یہ سب ایک ایکس پوسٹ کو ری پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، جس میں لکھا ہے، ’’بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ دانش علی کے ساتھ ایوان میں پر بدسلوکی کی گئی۔ راہل گاندھی سمیت کانگریس لیڈروں نے ان سے ملاقات کی۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے ان کی حمایت کے لیے ویڈیو جاری کی۔ ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے انٹرویو میں ان کی مذمت کی۔ آر جے ڈی کے ایم پی منوج جھا نے اپنا موقف ظاہر کرنے کے لیے ویڈیو جاری کی۔ دریں اثنا، بی ایس پی ایسے بے شرم تبصروں کے لیے بی جے پی کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لیے پریس کانفرنس بھی نہیں کر سکی۔ تعجب کی بات نہیں کہ بی ایس پی ہندوستانی اتحاد میں شامل نہیں ہوئی اور یہ پورے ملک میں زوال پذیر نظر آ رہی ہے۔‘‘

