موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

’خبروں کا سب سے قابل اعتبار ذریعہ اخبار ہے، یہ برقرار رہیں گے‘، میڈیا اجلاس میں اظہارِ خیال

’’آج بھی خبروں کے معاملے میں اخبار سب سے قابل اعتبار ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے تیزی سے پھیلنے کے بعد بھی ہندوستان میں اخباروں کا سرکولیشن بڑھ رہا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آج بھی لوگوں میں اخبار کی اپنی اہمیت ہے۔‘‘ یہ اظہار خیال 13 ستمبر کو پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی طرف سے دہلی میں منعقد پہلے میڈیا اجلاس میں شریک مختلف زبانوں کے اخبارات سے منسلک صحافیوں نے متفقہ طور پر کیا۔

میڈیا اجلاس میں ہندوستانی زبانوں کے اخبارات کی وسعت اور تکنیک کی بڑھتی مداخلت پر ماہرین نے اپنے خیالات ظاہر کیے۔ اس دوران میڈیا انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی مشہور ہستیوں نے کہا کہ اخبار آج بھی سب سے بھروسہ مند ذریعہ ہے۔ قارئین دن بھر ٹی وی اور ڈیجیٹل میڈیا پر خبریں دیکھنے کے بعد بھی اخبار پڑھتے ہیں، جس سے ظاہر ہے کہ وہ اخبار کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔

’امر اجالا‘ کے منیجنگ ڈائریکٹر تنمے مہیشوری نے اس موقع پر کہا کہ ’’ہمارے یہاں لوگوں کو 5 سے 7 روپے میں اخبار مل جاتا ہے۔ بیرون ممالک میں یہی اخبار 40-30 روپے میں ملتا ہے، اور اس میں بھی لاجسٹکس کا خرچ لگتا ہے۔ عام طور سے ہمارے یہاں کوئی سامان منگوانے پر ہر پیکٹ پر 50 سے 60 روپے لاجسٹکس کی لاگت آتی ہے، لیکن ہم ان سب اخراجات کے بعد بھی صرف 5 سے 7 روپے میں اخبار دستیاب کراتے ہیں۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ یہ فرق کہاں سے آ رہا ہے۔‘‘ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’’اخبار اور ڈیجیٹل میڈیا سمیت ہر طرح کا پلیٹ فارم برقرار رہے گا اور آگے بڑھتا بھی رہے گا۔ یہ فکر بے بنیاد ہے کہ نئے زمانے میں اخبارات ختم ہو جائیں گے۔‘‘

اے بی پی گروپ کے چیف ایگزیکٹیو افسر دھروب مکھرجی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہائپرلوکل تک پہنچنا اخبارات کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ جہاں عام طور سے بڑے ٹی وی چینل پہنچ ہی نہیں پاتے ہیں۔ ’ایناڈو‘ گروپ کے ڈائریکٹر آئی وینکٹ نے اجلاس میں ’فیکٹ چیک‘ پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اعتبار حاصل کرنے کے لیے فیکٹ چیک کے انتظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔‘‘ علاوہ ازیں دینک بھاسکر کے نیشنل ایڈیٹر لکشمی پنت نے کہا کہ ’’نچلے اور چھوٹے علاقوں کے صحافی آج ایڈمنسٹریشن کے سامنے سب سے سنگین سوالات اٹھا رہے ہیں۔ نئے لوگ خواندہ ہو رہے ہیں۔ خبروں کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ اس کے پلیٹ فارم بدل رہے ہیں۔‘‘