موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

اعظم خان کے خلاف محکمہ انکم ٹیکس کی کارروائی، چھ مقامات پر چھاپہ ماری

لکھنؤ: انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے بدھ کو اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کے لیڈر اور سابق کابینہ وزیر اعظم خان کے ٹھکانوں چھاپہ مارا۔ رپورٹ کے مطابق یہ چھاپہ ماری الجوہر ٹرسٹ کے حوالے سے کی جا رہی ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے رام پور، لکھنؤ، سیتاپور، میرٹھ، سہارنپور اور غازی آباد میں چھاپے مارے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایس پی لیڈر اعظم خان چھاپے کے وقت اپنی رام پور میں واقع رہائش گاہ پر موجود تھے۔ اب تک کی معلومات کے مطابق اعظم خان کی محمد علی جوہر یونیورسٹی کے ٹرسٹ اکاؤنٹس کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ تاہم افسران کی جانب سے ابھی تک کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی بی جے پی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے اعظم خان لگاتار مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اعظم خان نے رام پور میں مولانا علی جوہر کے نام پر یونیورسٹی قائم کی تھی، جسے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ چلاتا ہے۔

اعظم خان محمد علی جوہر ٹرسٹ کے چیئرمین ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ ڈاکٹر تزئین فاطمہ اس کی سکریٹری ہیں۔ اعظم خان نے جوہر یونیورسٹی بنانے کے لیے کافی اراضی حاصل کی تھی جس کو لے کر شروع سے ہی تنازعہ چل رہا ہے۔ اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی کی پوری زمین اب حکومت نے اپنے قبضے میں لے لی ہے۔ 173 ایکڑ اراضی سے بے دخلی کی کارروائی کی گئی ہے۔