موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سرکارا مندر میں اب نہیں لگے گی آر ایس ایس کی شاخہ، ہائی کورٹ نے لگائی پابندی

کیرالہ میں ترووننت پورم کے سرکارا دیوی مندر احاطہ میں آر ایس ایس کے ذریعہ شاخہ (پریکٹس سیشن) لگائے جانے پر کیرالہ ہائی کورٹ نے پابندی عائد کر دی ہے۔ ہائی کورٹ نے سرکاری دیوی مندر میں آر ایس ایس کے ٹریننگ کیمپ کو چیلنج پیش کرنے والی ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ فیصلہ صادر کیا۔ عدالت نے کہا کہ سرکارا مندر کا انتظام و انصرام تراونکور دیوسووم بورڈ (ٹی ڈی بی) کے ہاتھوں میں ہے جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

کیرالہ ہائی کورٹ نے کہا کہ مندر کے احاطہ میں کسی اجتماعی پریکٹس یا اسلحہ تربیت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حالانکہ مندر احاطہ میں اسلحہ ٹریننگ پر پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے، اور اب شاخہ لگائے جانے پر بھی روک لگا دی گئی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ مندر احاطہ کا استعمال اجتماعی ڈرِل یا اسلحہ ٹریننگ کے لیے نہیں کیا جا سکتا ہے، وہاں صرف پوجا-تہوار منانے کی ہی اجازت ہوگی۔

قابل ذکر ہے کہ ٹی ڈی بی نے پہلے ہی کہا تھا کہ مندر احاطہ میں پوجا اور تہوار کے علاوہ کسی دیگر انعقاد کی اجازت نہیں ملے گی۔ حال ہی میں جسٹس انل کے. نریندرن اور جسٹس پی جی اجیت کمار کی بنچ نے اس معاملے پر ایک حکم سنایا تھا۔ اس دوران بھی بنچ نے مندر احاطہ میں کسی اجتماعی پریکٹس یا اسلحہ تربیت کے ساتھ ساتھ آر ایس ایس کے شاخہ پر روک لگانے کی بات کہی تھی۔