موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

اِنڈیا اتحاد میں شامل پارٹیاں پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا بائیکاٹ نہیں کریں گی، عوامی ایشوز اٹھائے جائیں گے: کانگریس

کانگریس نے واضح کر دیا ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کا اتحاد ’اِنڈیا‘ مرکزی حکومت کے ذریعہ 18 ستمبر کو بلائے گئے پارلیمنٹ کے پانچ روزہ خصوصی اجلاس کا بائیکاٹ نہیں کرے گا۔ کانگریس کے سینئر لیڈر جئے رام رمیش نے بدھ کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقد پریس کانفرنس کے دوران اس سلسلے میں وضاحت کی اور صاف کیا کہ خصوصی اجلاس میں عوام سے جڑے ایشوز پر حکومت سے پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ 5 ستمبر کو کانگریس پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ اور اِنڈیا اتحاد کے لیڈروں کی میٹنگ اس معاملے پر ہوئی تھی جس میں فیصلہ ہوا کہ بھلے ہی حکومت منمانی کر رہی ہے اور اس نے خصوصی اجلاس کے ایجنڈے کی جانکاری اپوزیشن پارٹیوں کو نہیں دی ہے، لیکن کانگریس اور اِنڈیا اتحاد میں شامل سبھی پارٹیاں عوامی مفاد میں پارلیمنٹ سیشن میں حصہ لیں گی اور عوام سے جڑے ایشوز ایوان میں اٹھا کر ان پر بحث کا مطالبہ کریں گی۔

جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر 9 ایشوز کا تذکرہ کرتے ہوئے ان سبھی پر حکومت سے پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان میں مہنگائی، بے روزگاری اور ایم ایس ایم ای، ایم ایس پی، اڈانی معاملے پر جے پی سی کی تشکیل، ذات پر مبنی مردم شماری، وفاقی ڈھانچوں پر ہو رہے حملے اور غیر بی جے پی حکمراں ریاستوں کو ان کے حقوق سے محروم کیے جانے، ہماچل پردیش میں آئے سیلاب، لداخ و اروناچل کی سرحد پر چینی قبضہ، ہریانہ و دیگر ریاستوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی پر بحث کرانے اور منی پور تشدد پر حکومت کی حالت واضح کرنے کی گزارش کی گئی ہے۔

جئے رام نے میڈیا سے یہ بھی کہا کہ ’’ہم امید کرتے ہیں کہ یہ خصوصی اجلاس صرف سرکاری ایجنڈا کی بنیاد پر نہیں ہوگا۔ اگر یہ خصوصی اجلاس سرکاری ایجنڈا کی بنیاد پر ہے تو ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔ یہ روایت کے خلاف ہے۔ خصوصی اجلاس کے بلیٹن میں پانچ دن سرکاری بزنس کی بات لکھی گئی ہے جو ناممکن ہے۔ ہم نے عزم کیا ہے کہ جو ایشوز ہم پچھلی بار نہیں اٹھا پائے تھے، اس بار اٹھائیں گے۔‘‘