موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سناتن مذہب پر گھمسان کے درمیان 262 ہستیوں نے چیف جسٹس آف انڈیا کو لکھا خط، اودے ندھی پر کارروائی کا مطالبہ

سناتن مذہب سے متعلق تمل ناڈو کے وزیر اودے ندھی اسٹالن کے متنازعہ بیان پر ہنگامہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ تک پہنچ گیا ہے۔ ملک کی 262 اہم ہستیوں نے اودے ندھی کے بیان کے خلاف چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کو ایک خط لکھا ہے جس میں بیان پر از خود نوٹس لینے کی گزارش کی گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ پہلے سے ہی اودے ندھی اسٹالن کے بیان پر ہنگامہ جاری ہے اور کئی سیاسی و مذہبی تنظیموں نے اس پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔ اب 262 ہستیوں کے ذریعہ سی جے آئی چندرچوڑ کو لکھے گئے خط نے اس ہنگامہ کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ جن بڑی ہستیوں نے چیف جسٹس آف انڈیا کو خط لکھا ہے ان میں کئی سابق جج، سابق افسران اور دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ تمل ناڈو حکومت میں وزیر ادے ندھی اسٹالن نے حال میں جو بیان دیا ہے وہ فکر انگیز ہے۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ ریاستی حکومت نے اس معاملے میں کارروائی سے انکار کیا ہے، ایسے میں ہم چیف جسٹس سے گزارش کرتے ہیں کہ آپ اس معاملے میں از خود نوٹس لیں اور اس طرح کے اشتعال انگیز بیان پر کارروائی کریں۔ خط لکھنے والوں میں ملک کی الگ الگ ہائی کورٹس کے کئی سبکدوش جج، سابق آئی اے ایس، آئی ایف ایس شامل ہیں۔

واضح رہے کہ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کے بیٹے اودے ندھی اسٹالن نے اپنے ایک بیان میں سناتن مذہب پر بات کی تھی۔ انھوں نے اسے ایک بیماری قرار دیا تھا اور اس کا موازنہ کورونا، ڈینگو، ملیریا سے کیا تھا۔ اتنا ہی نہیں، اودے ندھی نے کہا تھا کہ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن میں اصلاح ممکن نہیں ہوتا، انھیں ختم ہی کرنا چاہیے، اور سناتن ان میں سے ہی ایک ہے۔