موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

جی-20: عشائیہ کے دعوت نامہ میں ’ پریزیڈنٹ آف بھارت‘ کا استعمال، لفظ ’انڈیا‘ ہٹانے پر کانگریس کا شدید ردعمل

نئی دہلی: ہندوستان میں ہونے جا رہی جی-20 سربراہی اجلاس سے کانگریس نے مرکزی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے عشائیہ کے جو دعوت نامے بھجوائے ہیں ان پر پریزیڈنٹ آف انڈیا کے مقام پر پریزیڈنٹ آف بھارت کا استعمال کیا گیا ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری انچارج شعبہ مواصلات جے رام رمیش نے کہا کہ راشٹرپتی بھون کی طرف سے 9 ستمبر کو جی-20 سربراہی اجلاس کے عشائیہ کے لیے بھیجے گئے دعوت ناموں میں عام طور پر استعمال ہونے والے ‘پرزیڈنٹ آف انڈیا’ کو تبدیل کر کے پریزڈنٹ آف بھارت کر دیا گیا ہے۔

ایک ٹوئٹ میں آئین کا حوالہ دیتے ہوئے جے رام رمیش نے کہا ’’تو یہ خبر سچ ہے۔ راشٹرپتی بھون نے 9 ستمبر کو جی-20 کے عشائیہ کے لیے معمول کے ‘پریزیڈنٹ آف انڈیا’ کے بجائے ‘پریزیڈنٹ آف بھارت’ کے نام سے دعوت نامہ بھیجا ہے۔ اب، آئین کے آرٹیکل پر نظر ڈالیں ’’بھارت، جو کہ انڈیا تھا، ریاستوں کا مرکز ہوگا لیکن اب یہ ریاستوں کا مرکز بھی حملے کی زد میں ہے۔

اپنے ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے کہا ’’مسٹر مودی تاریخ کو مسخ اور ہندوستان یعنی بھارت یعنی ریاستوں کے مرکز کو تقسیم کرنا جاری رکھ سکتے ہیں لیکن ہم ہار نہیں مانیں گے۔ آخر انڈیا کی جماعتوں کا مقصد کیا ہے؟ یہ بھارت ہے – ہم آہنگی، دوستی، مفاہمت اور بھروسہ۔ جوڑے گا بھارت جیتے گا انڈیا!‘‘