موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس پر مشتمل کمیٹی کی سفارش پر چیف الیکشن کمشنر، الیکشن کمشنرز کی تقرری ہوگی: سپریم کورٹ

چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری اب مرکزی حکومت کی سفارش پر نہیں، بلکہ وزیر اعظم، اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس آف انڈیا کی ایک کمیٹی کی سفارش پر صدر کے ذریعہ کی جائے گی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ جب تک کوئی قانون نہیں بن جاتا، ملک کے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری وزیر اعظم، اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس آف انڈیا کی ایک کمیٹی کی سفارش پر کی جائے گی عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کا مطلب ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری اب مرکزی حکومت کی سفارش پر نہیں، بلکہ وزیر اعظم، اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس آف انڈیا کی ایک کمیٹی کی سفارش پر صدر کے ذریعہ کی جائے گی۔

جسٹس کے ایم جوزف، جسٹس اجے رستوگی، جسٹس انیرودھا بوس، جسٹس ہرشیکیش رائے اور جسٹس سی ٹی روی کمار کی آئینی بنچ نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ سنایا۔

درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کی تقرری کے لیے آزادانہ میکنزم قائم کرنے کا حکم دیا جائے۔

جسٹس جوزف کی سربراہی میں بنچ نے آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت الیکشن کمیشن کی تقرری کے طریقہ کار میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ایگزیکٹو کی ہر قسم کی مداخلت سے دور رہنا چاہیے۔

بنچ نے کہا کہ جمہوریت کو جوڑنا اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے، جب تمام اسٹیک ہولڈرز عوام کی مرضی کی عکاسی کرنے کے لئے انتخابی عمل کی پاکیزگی کو برقرار رکھنے کے لیے کام کریں۔

بنچ نے کہا کہ ریاست کے تئیں ذمہ داری کی حالت میں کوئی شخص آزادانہ سوچ نہیں رکھ سکتا۔

سپریم کورٹ نے این جی او – ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس، اشونی کمار اپادھیائے، انوپ برنوال اور ڈاکٹر جیا ٹھاکر کی درخواست پر اپنا یہ فیصلہ سنایا۔