موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ہماچل پردیش میں کل 7881 پولنگ اسٹیشن، 7235 دیہی علاقوں میں

ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات میں پرامن، آزادانہ اور منصفانہ ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے کل 7881 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں

شملہ: ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات میں پرامن، آزادانہ اور منصفانہ ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے کل 7881 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔ ان میں سے 7235 دیہی علاقوں اور 646 شہری علاقوں میں ہیں۔

یہ اطلاع ہفتہ کو یہاں چیف الیکشن آفیسر منیش گرگ نے دی۔

انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ 1625 پولنگ سٹیشن کانگڑا ضلع میں اور سب سے کم 92 لاہول اسپتی ضلع میں ہیں۔ ریاست میں تین معاون پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں دھرم شالہ کے سدھ باڑی، بیجناتھ کے بڈبھنگل اور کسولی کے ڈھلون شامل ہیں۔ کانگڑا ضلع کے دھرم شالہ اسمبلی حلقہ کے تحت سدھ باڑی پولنگ اسٹیشن میں زیادہ سے زیادہ 1511 ووٹر ہیں جبکہ کنور میں کم از کم 16 ووٹر ہیں۔ ریاست میں دور دراز پولنگ اسٹیشن بھی ہیں، جہاں تک پہنچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پانچ سے 14 کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے۔

دور افتادہ چمبا ضلع میں، ڈلہوزی اسمبلی حلقہ کے تحت منولا پولنگ اسٹیشن میں سب سے زیادہ 1459 ووٹر ہیں جبکہ بھرمور کے کیونار میں صرف 84 ووٹر ہیں۔ قبائلی اسمبلی حلقہ بھرمور کا چک بٹوری ایک ایسا ہی پولنگ اسٹیشن ہے جہاں پولنگ پارٹی کو پہنچنے کے لیے 14 کلومیٹر پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔