موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

وزیر زراعت سدھاکر سنگھ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

وزیر زراعت سدھاکر سنگھ نے اپنا استعفیٰ نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کو بھیج دیا ہے، حالانکہ وزیر کا استعفیٰ ابھی قبول نہیں کیا گیا ہے

پٹنہ: بہار میں اپنے محکمہ میں بدعنوانی کے سلسلے میں عوامی طور پر ناراضگی کا اظہار کر چکے وزیر سدھاکر سنگھ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

مسٹر سنگھ نے اپنا استعفیٰ نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کو بھیج دیا ہے۔ حالانکہ وزیر کا استعفیٰ ابھی قبول نہیں کیا گیا ہے۔ راشٹریہ جنتادل (آرجے ڈی) کے ریاستی صدر اور مسٹر سنگھ کے والد جگدانند سنگھ نے اس کی تصدیق کی ہے۔

وزیر زراعت کے استعفیٰ پر آرجے ڈی کے ریاستی صدر جگدانند سنگھ نے کہا کہ آج گاندھی جینتی اور شاستری جی کی جینتی ہے۔ دونوں لیڈران نے ہمیشہ کسانوں کی فکر کی۔ کسان ملک کی ضرورت ہیں۔ وزیر زراعت ہمیشہ کسانوں کا سوال اٹھاتے رہتے تھے۔ کسانوں کے ساتھ ریاست میں انصاف نہیں ہورہا۔ اپنی پیداوار کو فروخت کرنے کیلئے کسانوں کے پاس آج کوئی منڈی نہیں ہے۔ اس وجہ سے وزیر زراعت کو بہت ہی دکھ ہے۔

غور طلب ہے کہ وزیر زراعت سدھاکر سنگھ اپنے محکمہ میں بدعنوانی کے سلسلے میں کافی آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے گذشتہ دنوں کیمور میں عوامی طور پر کہا تھا کہ ان کے محکمہ کے افسران چور ہیں اور وہ چوروں کے سردار ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے زرعی روڈ میپ میں بھی گڑبڑیوں کے سلسلے میں تنقید کی تھی۔