موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

جھانسی: ایس پی کے قدآور لیڈر دیپ نارائن یادو گرفتار

ڈی آئی جی کے مطابق کچہری احاطے میں تقریبا 60 سے 70 لوگوں نے پولیس کی گاڑی کو گھیر لیا اور لیکھ راج یادو کو وہاں سے فرار کرنے کی کوشش کی، مذکوروہ معاملے میں ہی ایس پی لیڈر دیپ نارائن یادو کو گرفتارکیا گیا ہے، اس معاملے میں پولیس نے ابھی تک 11 ملزمین کو گرفتار کیا ہے

جھانسی: اترپردیش کے ضلع جھانسی میں پیر کو پولیس نے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے قدآور رہنما و سابق ایم ایل اے دیپ نارائن سنگھ یادو کو گرفتار کرلیا۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی) جھانسی ڈویژن گوگندر کمار نے بتایا کہ 16 ستمبر کو قنوج جیل سے پولیس حراست میں سزا یافتہ مجرم لیکھ راج یادو کو پیشی کے لئے لایا گیا تھا۔ لیکھ راج کے خلاف مختلف تھانوں میں 47 مقدمے میں درج ہیں۔

ڈی آئی جی کے مطابق کچہری احاطے میں تقریبا 60 سے 70 لوگوں نے پولیس کی گاڑی کو گھیر لیا اور لیکھ راج یادو کو وہاں سے فرار کرنے کی کوشش کی۔ اس ضمن میں ان لوگوں نے گاڑی پر موجود پولیس اہلکاروں کو ڈرایا دھمکایا بھی۔ لیکن پولیس کی مستعدی کے سامنے وہ اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ مذکوروہ بالا معاملے میں ہی ایس پی لیڈر دیپ نارائن یادو کو گرفتارکیا گیا ہے۔ اس معاملے میں پولیس نے ابھی تک 11 ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ اس واقعہ میں شامل ہر مجرم کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے گی۔ پولیس نے اس واقعہ میں استعمال کی گئی گاڑی کو بھی برآمد کرلیا ہے۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ دیپ نارائن کے خلاف مختلف تھانوں میں 40 سے زیادہ مقدمے درج ہیں۔

وہیں دیپ نارائن کی گرفتاری کے بعد ضلع کا سیاسی پارہ گرم ہوگیا ہے۔ پولیس سابق ایم ایل اے کو گرفتار کرکے نواب آباد تھانے لے کر آئی تھی۔ ان کے کارکنوں کو پتہ چلتے ہیں بڑی تعداد میں کارکنان تھانے پہنچ گئے۔ جس کے بعد پولیس کا کافی مشقت کرنی پڑی۔ دیپ نارائن نے پولیس کی اس کاروائی کو ان کے خلاف حکومت کے اشارے پر انتظامیہ کی گئی کاروائی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں جان بوجھ کر اس معاملے میں گھسیٹا جارہا ہے۔