موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

2014 میں اقتدار میں آنے والے 2024 میں واپس نہیں آئیں گے: نتیش

نتیش کمار نے وزیر اعظم مسٹر مودی کا نام لیے بغیر کہا، ”مستقبل کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔ 2014 میں اقتدار میں آنے والے 2024 میں واپس نہیں آئیں گے۔ چاہے ہم رہیں یا نہ رہیں، وہ 2024 میں نہیں ہوں گے

پٹنہ: آٹھویں بار بہار کے وزیر اعلی بننے والے نتیش کمار نے وزیر اعظم نریندر مودی کا نام لیے بغیر آج کہا کہ مستقبل کا کوئی نہیں جانتا، جو سال 2014 میں اقتدار میں آئے وہ 2024 میں اقتدار میں واپس نہیں آئیں گے۔

بدھ کو یہاں راج بھون میں وزیر اعلیٰ کے عہدے اور رازداری کا حلف لینے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر کمار نے وزیر اعظم مسٹر مودی کا نام لیے بغیر کہا، ”مستقبل کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔ 2014 میں اقتدار میں آنے والے 2024 میں واپس نہیں آئیں گے۔ چاہے ہم رہیں یا نہ رہیں، وہ 2024 میں نہیں ہوں گے۔ پورے ملک میں اپوزیشن کو پھر سے کھڑا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ اپوزیشن ختم ہو جائے گی لیکن انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ اب وہ (مسٹر کمار) اپوزیشن میں ہیں۔

سال 2024 میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے پوری اپوزیشن سے متحد ہونے کی اپیل کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کی طاقت اس وقت کم ہوئی جب انہوں نے بی جے پی کے ساتھ 2020 کے اسمبلی کا انتخاب لڑا۔ جبکہ یہ تب بہتر تھا جب انہوں نے 2015 کا اسمبلی انتخاب راشٹریہ جنتادل کے ساتھ لڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی ماہ میں ہونے والی سیاسی پیش رفت سے سب واقف ہیں اور صحیح وقت پر حقائق پیش کئے جائیںگے۔

اٹل بہاری واجپائی اور نریندر مودی کے درمیان فرق

مسٹر کمار نے کہا، "ہم نے ان کی حمایت کی لیکن جے ڈی یو کو ہی ختم کرنے کی ان کی طرف سے کوششیں کی گئیں۔ اسی لیے ہم پرانی جگہ پر چلے گئے۔” سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اور موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان فرق کے بارے میں پوچھے جانے پر، انہوں نے کہا، "وہ بہت پیار کرتے تھے۔ اسے ہم بھول نہیں سکتے۔ اس وقت بات اور تھی۔ اٹل جی اور اس وقت کے لوگوں کا جو پیار تھا، اسے بھلایا نہیں جا سکتا۔

وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم نریندر مودی پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا لیکن جے ڈی (یو) کے سابق قومی صدر آر سی پی سنگھ پر طنز کرتے ہوئے کہا، "ہم نے ایک آدمی دیا تھا، وہ تو ان کا ہی ہو گیا۔” انہوں نے کہا کہ بہار اسمبلی کا اجلاس جلد طلب کیا جائے گا۔