موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

‘پرکشا پہ چرچا’ نہیں، روزگار دینے کی بات کریں: راہل گاندھی

مسٹر راہل گاندھی نے ٹویٹ کیا کہ "امرت کال کی نئی تعلیمی پالیسی: امتحان سے پہلے ‘پرکشا پہ چرچا’، امتحان کے دوران ‘نہ پرچہ، نہ چرچا’۔ امتحان کے بعد مستقل تاریک، یہ ہر نوجوان کی کہانی ہے، جو سی یو ای ٹی کے طلبہ کے ساتھ ہو رہا ہے

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی تعلیمی پالیسی، ‘پرکشا پہ چرچا’ وغیرہ کو دکھاوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ سچائی یہ ہے کہ ان کے پاس نوجوانوں کو روزگار دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

مسٹر راہل گاندھی اور محترمہ پرینکا گاندھی نے کہا کہ تین چار لوگ مل کر ملک کو چلا رہے ہیں اور یہ لوگ تاناشاہی کر کے ملک کو برباد کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج 50 ہزار نوجوان سی یو ای ٹی امتحان کے لیے نااہل ہو چکے ہیں۔

انہوں نے ٹویٹ کیا کہ "امرت کال کی نئی تعلیمی پالیسی: امتحان سے پہلے ‘پرکشا پہ چرچا’، امتحان کے دوران ‘نہ پرچہ، نہ چرچا’۔ امتحان کے بعد مستقل تاریک، یہ ہر نوجوان کی کہانی ہے، جو سی یو ای ٹی کے طلبہ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ چار لوگوں کی تاناشاہی ملک کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے۔

محترمہ پرینکا گاندھی نے کہا کہ 50 ہزار سے زیادہ طلبہ وطالبات "تکنیکی” خرابی کی وجہ سے سی یو ای ٹی کا امتحان دینے سے قاصر ہیں۔ کیا یہ حکومت طلبہ کے تئیں اتنی بے حس ہو چکی ہے کہ حکومتی پالیسی کی سنگین صورتحال کو دیکھ بھی نہیں سکتی؟ کیا یہی سب کچھ ہمارے نوجوانوں کے لیے ہے؟”