موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

راہل سمیت کانگریس کے کئی لیڈر حراست میں

راہل گاندھی سمیت کانگریس کے کئی لیڈر حکومت کے آمرانہ رویہ کے خلاف نو منتخب صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کرنے کے لئے راشٹرپتی بھون جا رہے تھے کہ انہیں راستے میں روک دیا گیا

نئی دہلی: کانگریس نے منگل کو کہا کہ پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی سمیت کئی لیڈر حکومت کے آمرانہ رویہ کے خلاف نو منتخب صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کرنے کے لئے راشٹرپتی بھون جا رہے تھے تو انہیں راستے میں روک دیا گیا اور مسٹر گاندھی سمیت تمام کو حراست میں لے لیا گیا۔

حکومت کے رویہ کو آمرانہ قرار دیتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ آمریت دیکھئے، پرامن مظاہرے نہیں کر سکتے، مہنگائی اور بے روزگاری پر بات نہیں کر سکتے۔ پولیس اور ایجنسیوں کا غلط استعمال کر کے، یہاں تک کہ ہمیں گرفتار کر کے بھی آپ ہمیں کبھی خاموش نہیں کر پاو گے۔” "صرف ‘سچ’ ہی اس آمریت کو ختم کرے گا۔”


کانگریس کے محکمہ مواصلات کے سربراہ جے رام رمیش نے کہا کہ مانسون اجلاس کے آغاز سے ہی پارلیمنٹ میں کوئی کام نہیں ہوا، اپوزیشن مہنگائی کے مسئلہ پر بحث کا مطالبہ کر رہی ہے، لیکن حکومت اپوزیشن جماعتوں کی بات سننے کو تیار نہیں ہے۔ حق کی لڑائی لڑ رہے کانگریس کے چار لوک سبھا ممبران کو پورے اجلاس کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس اپنے حق کے لئے لڑ رہی ہے اور اس کے ممبران پارلیمنٹ آج صدر جمہوریہ کو یہ بتانے جارہے تھے کہ حکومت کے اڑیل رویہ کی وجہ سے پارلیمنٹ نہیں چل رہی ہے لیکن انہیں صدر سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔