موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

پارلیمنٹ میں کسی بھی لفظ کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں: اوم برلا

لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ پارلیمنٹ اپنے اصول اور طریقہ کار طے کرتی ہے۔ حکومت اسے ہدایات نہیں دیتی اور نہ ہی اس نے کسی لفظ پر کوئی پابندی لگائی ہے

نئی دہلی: لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے جمعرات کو واضح طور پر کہا کہ پارلیمنٹ میں ’’کسی بھی لفظ کے استعمال پر پابندی نہیں‘‘ لگائی گئی ہے اور پریذائیڈنگ آفیسر کا کام ایوان کے وقار اور اراکین کے حقوق کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔

مسٹر برلا لوک سبھا سکریٹریٹ کی جانب سے لوک سبھا، راجیہ سبھا اور ملک کی مختلف اسمبلیوں کی کارروائی سے حذف کیے جانے والے الفاظ کے حوالے سے جاری نئے کتابچہ سے پیدا ہونے والے تنازعہ پر ایک خصوصی طور پر منعقدہ پریس کانفرنس میں کچھ وضاحتیں دے رہے تھے۔
اس تنازعہ کو غیر ضروری بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ایوان میں معدوم الفاظ کا کتابچہ پہلے بھی ایوانوں میں جاری ہوتا رہا ہے، اس لیے موجودہ تنازعہ کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ پریذائیڈنگ آفیسر ایوان میں بحث کے دوران استعمال ہونے والے الفاظ کو حذف کرنے کا فیصلہ اس کے سیاق و سباق کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتا ہے اور رکن کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ کسی رکن کے بیان سے کسی بھی لفظ کو حذف کرنے پر اعتراض اٹھائے۔
مسٹر برلا نے کہا ’’کوئی بھی اظہار رائے کی آزادی نہیں چھین سکتا، لیکن بات چیت باوقار ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اپنے اصول اور طریقہ کار طے کرتی ہے۔ حکومت اسے ہدایات نہیں دیتی اور نہ ہی اس نے کسی لفظ پر کوئی پابندی لگائی ہے۔