موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سیتا پور کیس میں محمد زبیر کی عبوری ضمانت منظور

جسٹس اندرا بنرجی اور جسٹس جے کے مہیشوری کی تعطیلاتی بنچ نے سیتا پور کی ایف آئی آر میں محمد زبیر کی ضمانت کی درخواست منظور کرلی ہے

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کے الٹ نیوز کے شریک ایڈیٹر محمد زبیر کو اتر پردیش کے سیتا پور میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں درج مقدمہ میں پانچ دنوں کے لیے عبوری ضمانت دے دی۔

صحافی زبیر اس وقت دہلی میں درج ایک دوسرے مقدمے میں عدالتی تحویل میں ہیں اور انہیں فی الحال جیل میں ہی رہنا پڑے گا۔

جسٹس اندرا بنرجی اور جسٹس جے کے مہیشوری کی تعطیلاتی بنچ نے سیتا پور کی ایف آئی آر میں محمد زبیر کی ضمانت کی درخواست منظور کرلی ہے۔ بنچ نے ضمانت کے حکم میں کہا کہ زبیر سیتا پور مجسٹریٹ کی عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر نہیں جائیں گے اور سپریم کورٹ میں اس معاملے پر اگلی سماعت تک کوئی نیا ٹویٹ نہیں کریں گے۔

عدالت عظمی نے محمد زبیر کو ہدایت دی ہے کہ وہ بنگلور یا کسی اور جگہ اس کیس سے متعلق الیکٹرانک شواہد سے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔ سینئر وکیل کولن گونزالویس نے صحافی زبیر کی جانب سے عدالت کو بتایا کہ میرے مؤکل کا موقف ہے "میرے خلاف کچھ نہیں ہے۔ میں صرف اشتعال انگیز بیانات کے خلاف بول رہا ہوں۔ میں کسی مذہب کے خلاف نہیں ہوں۔ میں بے قصور ہوں۔ آپ میری ٹویٹس دیکھیں۔ میں ان کی تصدیق کرتا ہوں۔ مجھے بنگلور اور دوسری جگہوں پر لے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں ہے”۔

ٹویٹ پڑھتے ہوئے مسٹر گونزالویس نے کہا کہ یہ کسی مذہب کے خلاف نہیں ہے۔

محمد زبیر کی جان کو خطرہ

مسٹر گونزالویس نے اپنے مؤکل کی طرف سے کہا، "میری جان کو خطرہ ہے۔ بہت سے لوگ مشورہ دے رہے ہیں کہ پولیس مجھے ٹارچر کرے۔ مجھ کو قتل بھی کیا جا سکتا ہے”۔

کچھ دھمکی آمیز بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا، “ایک لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں جیل میں ہونا چاہیے”۔

اتر پردیش حکومت کے وکیل نے زبیر کے وکیل کے دلائل کے جواب میں کہا کہ محمد زبیر کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا، ”آپ سسٹم کے ساتھ نہیں کھیل سکتے ہیں۔ اس نے (زبیر) نے جان بوجھ کر بہت سے حقائق کو چھپا دیا ہے۔ یہ ناقابل قبول ہے۔ اس نے بیرون ملک سے بھی پیسہ لیا ہے۔