بہار انتخابات میں الیکشن کمیشن نے ووٹ شماری کے نئے اصول جاری کردیے، ای وی ایم کی گنتی کے لیے اہم تبدیلیاں
بہار میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن نے ووٹ شماری کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں۔ جمعرات، 25 ستمبر کو جاری کیے گئے نئے ہدایت نامے میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ای وی ایم کی گنتی اس وقت تک نہیں کی جائے گی جب تک پوسٹل بیلٹ کی گنتی مکمل نہیں ہو جاتی۔ یہ فیصلہ خاص طور پر بیلٹ کی تعداد کے اضافے کے باعث کیا گیا ہے، جس کا مقصد ووٹوں کی گنتی میں شفافیت لانا اور تاخیر کو کم کرنا ہے۔
پوسٹل بیلٹ کی گنتی کی اہمیت
الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق، ای وی ایم یا وی وی پیٹ ووٹوں کی گنتی کا دوسرا اور آخری مرحلہ اس وقت تک شروع نہیں ہوگا جب تک کہ پوسٹل بیلٹ کی گنتی مکمل نہ ہو جائے۔ اس تبدیلی کا مقصد یہ ہے کہ جہاں پوسٹل بیلٹ کی تعداد زیادہ ہو، وہاں مراکز پر اضافی ٹیبلز اور گنتی کرنے والوں کی تعداد بڑھائی جائے، تاکہ ووٹوں کی گنتی کا عمل تیز تر ہو سکے۔ یہ فیصلہ ان لوگوں کے لیے بھی اہم ہے جو اپنی ملازمتوں یا دیگر وجوہات کی بنا پر اپنے علاقے میں ووٹ نہیں ڈال سکتے، جیسے کہ 80 سال سے اوپر کے بزرگ شہری اور معذور افراد۔
پوسٹل بیلٹ کی گنتی پہلے کی طرح اب بھی صبح 8 بجے شروع ہوگی، لیکن اس بار ای وی ایم کی گنتی اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک پوسٹل بیلٹ کی مکمل گنتی نہ ہو جائے۔ الیکشن کمیشن نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ اگر کسی مرکز پر عارضی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو اس کی ذمے داری وہاں موجود انتخابی افسران پر ہوگی۔
انتخابی اصلاحات کا حصہ
یہ نئی ہدایتیں الیکشن کمیشن کے حالیہ انتخابی اصلاحات کے سلسلے کا حصہ ہیں۔ گزشتہ 6 ماہ کے دوران کمیشن نے ووٹرز کی سہولت میں اضافے، انتخابی نظام کو مضبوط بنانے، اور تکنیک کے استعمال کو بہتر بنانے کے سلسلے میں متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں شامل ہیں ووٹرز کے لیے ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال اور انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانا۔
پوسٹل بیلٹ کے فوائد
پوسٹل بیلٹ کا نظام خاص طور پر ان لوگوں کے لیے فائدہ مند ہے جو کسی وجہ سے اپنے انتخابی حلقے میں ووٹ نہیں ڈال سکتے۔ اس نظام کے تحت، لوگ پہلے ہی اپنی رائے دہی کا عمل مکمل کر لیتے ہیں۔ اس نظام کے تحت ووٹنگ کو مزید آسان بنایا گیا ہے تاکہ بزرگ اور معذور افراد بھی اس عمل کا حصہ بن سکیں۔
انتخابی عمل کی شفافیت
الیکشن کمیشن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ووٹ شماری کے عمل میں شفافیت اور یکسانیت لانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ پچھلے انتخابات میں یہ دیکھا گیا کہ پوسٹل بیلٹ کی گنتی کے بعد ای وی ایم کی گنتی کرنے سے نتائج میں تاخیر اور بے قاعدگیوں کا خدشہ بڑھ جاتا تھا، جسے کمیشن نے اب ختم کرنے کا ارادہ کیا ہے۔
معاشرتی اثرات
یہ فیصلے نہ صرف انتخابی عمل کو متاثر کریں گے بلکہ ووٹروں کی رائے دہی کے حوالے سے بھی ایک مثبت تبدیلی لائیں گے۔ جب ووٹوں کی گنتی میں شفافیت ہوگی تو عوام کا الیکشن پر اعتماد بھی بڑھے گا، جو کہ جمہوریت کے لیے ایک خوش آئند بات ہے۔
بہرحال، یہ دیکھا جائے گا کہ آیا الیکشن کمیشن کی یہ نئی ہدایات عملی طور پر کس طرح کام کرتی ہیں اور آیا یہ واقعی ووٹوں کی گنتی کے عمل کو بہتر بناتی ہیں یا نہیں۔
آخری بات
بہار میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی نئی ہدایات ایک بڑی تبدیلی کا نشان ہیں۔ یہ تبدیلیاں نہ صرف ووٹروں کے تجربے کو بہتر بنانے کی کوشش ہیں بلکہ جمہوریت کے لیے بھی ایک مثبت قدم ہیں۔ اگلے انتخابات میں ان ہدایتوں کے اثرات دیکھنے کے قابل ہوں گے، اور یہ عوام کی رائے میں بھی بہتری لا سکتی ہیں۔

