نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے حالیہ دنوں میں فرضی خبروں اور غلط معلومات کی بڑھتی ہوئی خطرناکی کے پیش نظر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا۔ اس اجلاس میں مختلف مرکزی وزارتوں اور محکموں کے سیکریٹریوں نے شرکت کی، اور اس کا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی غلط معلومات کے بہاؤ کو روکنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا تھا۔
اجلاس کا مقام: نئی دہلی میں واقع وزیر اعظم کے دفتر میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں ملک کی قومی سلامتی کی موجودہ صورتحال کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ وقت ملک کے لیے ایک خاص اہمیت کا حامل ہے، اور اس کے نتیجے میں عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے واضح مواصلات اور آپریشنل تیاری بہت اہم ہیں۔
اجلاس میں موجود عہدیداروں نے مختلف وزارتوں کی جانب سے موجودہ حالات کے بارے میں اپنی تفصیلات فراہم کیں۔ یہ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ ان کے ادارے کسی بھی ہنگامی یا غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ وزیراعظم نے اس اجلاس میں کہا کہ فرضی خبروں کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ نہ صرف عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ قومی سلامتی کو بھی خطرہ ڈالتا ہے۔
اجلاس کی اہمیت
اجلاس کے دوران وزیر اعظم مودی نے چند انتہائی اہم نکات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا کیونکہ یہ عوام کے ذہنوں میں کنفیوژن پیدا کر سکتی ہیں اور عوامی امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ اس لیے سیکریٹریوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنی وزارتوں میں تیاری، مواصلاتی نظام اور ہنگامی ردعمل کے پروٹوکولز کا مکمل جائزہ لیں تاکہ کسی بھی خطرے کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ "ہمیں چاہیے کہ ہم ریاستی سطح کے اداروں اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ رابطے میں رہیں تاکہ زمین پر بھی چوکسی برقرار رکھی جا سکے۔”
اجلاس میں سول سیکورٹی کے موجودہ نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی، جس میں اہم انفراسٹرکچر کی حفاظت اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے بروقت ردعمل کی تیاری شامل تھی۔
کون شریک ہوا؟
اجلاس میں کابینہ سیکریٹری ٹی وی سوماناتھن اور دفاع، داخلہ، خارجہ، اطلاعات و نشریات، بجلی، صحت، اور ٹیلی کمیونی کیشن جیسی اہم وزارتوں کے سیکریٹریوں نے بھی شرکت کی۔ ان سب نے اپنی وزارتوں کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا تفصیلاتی جائزہ پیش کیا، جس سے واضح ہوا کہ حکومت کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
اجلاس کے اختتام پر، وزیر اعظم مودی نے قوم کے سامنے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر ممکن تدبیر اختیار کرے گی تاکہ ملک میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
غلط معلومات کی حقیقت: کیوں ضروری ہے پوری قوم کو باخبر رکھنا؟
غلط معلومات کا پھیلاؤ ایک معاشرتی مسئلہ بن چکا ہے جس کے اثرات نہ صرف سماجی استحکام پر پڑتے ہیں بلکہ یہ قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے اس اجلاس میں یہ بھی واضح کیا کہ یہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر ایک شہری کا فرض ہے کہ وہ سچائی کی ترویج کرے اور فرضی خبروں کی نشاندہی کرے۔
اجلاس میں موجود سیکریٹریوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ وہ اپنی وزارتوں کی سطح پر ایسے اقدام کریں گے جو کہ عوام میں شعور و آگاہی پیدا کریں۔
نئی حکمت عملی کا آغاز
اجلاس میں بڑھتی ہوئی خطرات کے پیش نظر نئی حکمت عملیوں کا آغاز کیا گیا۔ اس میں یہ طے پایا گیا کہ وزارتوں کی سطح پر تربیت سیشنز منعقد کیے جائیں گے جس میں عوامی آگاہی، سوشل میڈیا کے استعمال اور غلط معلومات سے آگاہی فراہم کی جائے گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ "ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ فرضی خبریں کس طرح نفسیاتی جنگ کا حصہ بن سکتی ہیں اور ہمیں اپنی قوم کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ وہ ان کا سامنا کر سکیں۔”
اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شہریوں کو یہ سکھایا جائے کہ وہ کس طرح سچائی کی پہچان کر سکیں اور فرضی خبروں کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔
اجلاس میں جھوٹی معلومات کے خلاف آگاہی کے لیے منصوبہ بندی کا آغاز کیا گیا، جس کے تحت مختلف وزارتوں اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر بنانے کے لیے حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔
آخر میں
اجلاس میں ہونے والی گفتگو اور فیصلے نہ صرف عزم اور حکمت عملی کی علامت ہیں بلکہ یہ اس بات کے بھی عکاس ہیں کہ حکومت فرضی خبروں کے اثرات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور ان کے تدارک کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

