موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

دہلی میں انتظامی عہدوں کی خالی جگہوں پر کانگریس کا احتجاج، بی جے پی حکومت کی بے حسی پر سوالات اٹھائے گئے

دہلی میں سرکاری عہدوں کی کمی: کانگریس کی تشویش

نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے سینئر ترجمان، ڈاکٹر نریش کمار نے دہلی میں انتظامی عہدوں کی خالی جگہوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی تشکیل کو تین ماہ گزر چکے ہیں، مگر متعدد اہم عہدے اب بھی خالی ہیں، جو عوام کے مسائل کے حل میں رکاوٹ ہیں۔

کون، کیا، کہاں، کب، کیوں، اور کیسے؟

ڈاکٹر نریش کمار نے یہ بات واضح کی کہ مغربی دہلی میں زمین کے حصول کے کلکٹر اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے عہدے ڈیڑھ ماہ سے خالی ہیں، جبکہ علی پور کے ایس ڈی ایم اور نریلا کے سب رجسٹرار کے عہدے ایک ماہ سے خالی ہیں۔ ان کے مطابق نانگلوئی کے سب رجسٹرار کا عہدہ تین ماہ سے خالی ہے، جس کے سبب عوام کو زمین اور زراعت سے متعلق کاموں میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ بی جے پی حکومت کو فوری طور پر ان عہدوں پر تقرریاں کرنا ہوں گی تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا حل نکل سکے۔

ڈاکٹر کمار نے اپنی یادداشت میں واضح کیا کہ ان خالی عہدوں کی وجہ سے عوام کو زمین کی رجسٹریشن، انتقال اور دیگر متعلقہ امور میں بہت ساری پریشانیوں کا سامنا ہے۔ ان کے خیال میں، حکومت کی جانب سے یہ بے حسی عوام کے حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس کا فوری ازالہ ضروری ہے۔

عوامی مسائل کا حل: کانگریس کا مطالبہ

ڈاکٹر نریش کمار نے واضح کیا کہ ان عہدوں کی خالی جگہیں عوام کے براہ راست مفادات پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔ "عوام کو سرکاری پالیسیوں کا فائدہ حاصل نہیں ہو رہا، جس کی وجہ سے ان کے روزمرہ کے مسائل حل نہیں ہو پا رہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسے حالات میں حکومت کی جانب سے عوامی خدمات کی فراہمی میں رکاوٹیں پڑ رہی ہیں۔

اس کے علاوہ، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مغربی اور شمال مغربی دہلی کے عوام کو زمین کی رجسٹریشن، انتقال اور دیگر متعلقہ امور میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے انہیں مختلف قسم کی تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کیوں ضروری ہیں ان عہدوں کی بھرپائی؟

دہلی کی حکومت کو چاہیے کہ وہ ان خالی عہدوں کو جلد از جلد پر کرے تاکہ عوام کی مشکلات کم کی جا سکیں۔ یہ عہدے عوام کے لیے بنیادی نوعیت کے ہیں اور ان کی خالی جگہیں سرکاری خدمات کی فراہمی میں رکاوٹ کا سبب بن رہی ہیں۔

حکومتی بے حسی: کیا ہے حل؟

ڈاکٹر کمار کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر ان عہدوں کی تقرری نہیں کی گئی تو عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ اس حوالے سے مزید غفلت کا مظاہرہ نہ کرے اور فوری طور پر ان خالی عہدوں پر تقرریاں کرے تاکہ عوام کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

As per the report by انڈین ایکسپریس, یہ صورتحال اس وقت کی ہے جب دہلی کی عوام ترقی کی منتظر ہیں اور ایسے میں انتظامی عہدوں کی خالی جگہیں نئے مسائل پیدا کر رہی ہیں۔

ایکسپرٹ کی رائے

ماہرین کا کہنا ہے کہ انتظامی عہدوں کی خالی جگہوں کا ہونا کسی بھی ریاست کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے اور حکومت کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس وجہ سے، عوامی نمائندوں کو چاہئے کہ وہ اس ایشو پر توجہ دیں اور اسے حل کرنے کے لئے موثر اقدامات کریں۔

پالیسیوں کا دائرہ کار

ان حالات میں، دہلی کی عوام کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کی ضروریات اور حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ اگر حکومت کو عوامی مسائل کی اہمیت کا ادراک نہیں ہوگا تو یہ بالآخر عوامی اعتماد کو متزلزل کر دے گا۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔