جمعرات, مئی 7, 2026

بجلی پلانٹس کی آلودگی: عوام کی صحت پر منفی اثرات کا خدشہ بڑھ گیا

Share

نئی تحقیق میں بجلی پلانٹس کی کارکردگی پر سوالات اٹھ گئے

ہندوستان میں بجلی کی پیداوار اور اس کے باعث فضائی آلودگی کے معاملے میں ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک میں واقع 537 بجلی پلانٹس میں سے 71 فیصد یعنی 380 پلانٹس طے شدہ اخراج کے معیار پر پورا نہیں اتر رہے ہیں۔ اس معاملے میں سنٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر (سی آر ای اے) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یہ صورتحال عوامی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

اس تحقیق کے مطابق، دہلی کے 300 کلومیٹر کے دائرہ میں واقع 11 بجلی پلانٹس میں سلفر ڈائی آکسائیڈ کا اخراج طے حد سے بھی زیادہ ہے، جو زہریلی ہوا کی ایک بڑی وجہ بن رہا ہے۔

ریسرچ کا خلاصہ: 71 فیصد بجلی پلانٹس غیر معیاری اخراج کر رہے ہیں

سی آر ای اے کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ملک بھر کے 537 کوئلے سے چلنے والے بجلی پلانٹس میں سے صرف 44 پلانٹس میں فلو گیس سلفرائزیشن (ایف جی ڈی) سسٹم نصب ہیں، یعنی صرف 8 فیصد پلانٹس ہی فضائی آلودگی کے کنٹرول کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ جبکہ 493 پلانٹس اب بھی اس ٹیکنالوجی سے محروم ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف مقامی آبادی بلکہ دور دراز علاقوں کی فضائی کیفیت پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔

تحقیق کے مطابق، صرف 59 پلانٹس (12 فیصد) ضوابط پر عمل کر رہے ہیں، جبکہ 54 پلانٹس کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ اس کے نتیجے میں، یہ پلانٹس اس قدر آلودگی پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں کہ ملک کے مختلف حصوں میں صحت کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔

آلودگی کے ذرائع: گھریلو سرگرمیاں، صنعتیں، اور بجلی پلانٹس

انسانوں کے لیے خطرہ بننے والی پی ایم 2.5 آلودگی کے ذرائع میں گھریلو سرگرمیاں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، جو کہ تقریباً 22 فیصد کے لیے ذمہ دار ہیں۔ اس کے بعد صنعتوں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کا حصہ 14 اور 11 فیصد ہے۔ نیشنل کلین ایئر پروگرام کے تحت نشاندہی کیے گئے 122 شہروں میں 80 فیصد سے زیادہ آلودگی ان کی سرحدوں کے باہر سے آرہی ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مقامی ذرائع پر قابو پانے سے مطلوبہ فضائی معیار حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بایو گیس کا جلانا بھی آلودگی کا ایک بڑا ذریعہ ہے، جو کہ پی ایم 2.5 کے 32 فیصد تک کا باعث بنتی ہے۔ مزید برآں، توانائی کی پیداوار اور صنعتی عمل دونوں کی اس میں نمایاں حصہ داری ہے۔

سخت ریگولیٹری میکانزم کی ضرورت

تحقیق کے نتائج میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فضائی آلودگی کے مسائل کے حل کے لیے سخت ریگولیٹری میکانزم کی ضرورت ہے۔ اخراج کی معلومات کی شفافیت کو یقینی بنانا اور عدم تعمیل کی صورت میں سخت سزاؤں کا نفاذ بھی مجوزہ ہے۔

سی آر ای اے کی رپورٹ کے مطابق، آلودگی کی موجودہ سطح کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومتی اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔

نتائج کی اہمیت: عوامی صحت کا تحفظ

تحقیق کے نتائج عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ایک زبردست چیلنج کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔ اس کا فوری حل نہ ہونا مستقبل میں صحت کی بڑی مشکلات پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کے لیے، جو ہوا کی آلودگی کے اثرات کے لحاظ سے زیادہ حساس ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی کے اثرات کے اس موقع پر، حکومت کو بغیر کسی تاخیر کے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی تاکہ عوام کی صحت کو محفوظ بنایا جا سکے۔

ماحولیات کے تحفظ کے ایجنسی کا اشارہ ہے کہ ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ اس صورت حال کا سامنا کیا جا سکے۔

اس مکمل تجزیے کو دیکھنے کے بعد یہ واضح ہے کہ بجلی پلانٹس کی فضائی آلودگی کی سطح کا کنٹرول نہ کرنا عوام کی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ ماہرین کا اس بات پر زور ہے کہ تمام متعلقہ اداروں کو اس مسئلے کے حل کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا تاکہ فضائی آلودگی کی سطح کو کم کیا جا سکے اور عوامی صحت کو محفوظ بنایا جا سکے۔

Read more

Local News