جمعرات, مئی 7, 2026

ہندوستانی میڈیا اور صحافتی آزادی کا گرتا ہوا معیار

Share

جب میڈیا عوام کی آواز بننے کے بجائے سرکاری خوشنودی اور غیر ضروری مباحثوں میں الجھ جائے، تو عالمی درجہ بندی میں نیپال و سوڈان جیسے ممالک سے پیچھے آنا کوئی حیرت کی بات نہیں۔

ہر سال 3 مئی کو دنیا بھر میں ’ورلڈ پریس فریڈم ڈے‘ یعنی صحافتی آزادی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اسی موقع پر ’رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز‘ (Reporters Without Borders) کی جانب سے عالمی صحافتی آزادی کی درجہ بندی بھی جاری کی جاتی ہے۔ سال 2025 میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، ہندوستان 180 ممالک کی فہرست میں 151 ویں مقام پر ہے۔ یہ ادارہ 2002 سے یہ انڈیکس جاری کر رہا ہے۔

حیرت انگیز طور پر ہندوستان اپنے کئی پڑوسی ممالک جیسے نیپال (90 ویں)، مالدیپ (104 ویں)، سری لنکا (139 ویں) اور بنگلہ دیش (149 ویں) سے بھی نیچے ہے۔ اگرچہ ہندوستان کی درجہ بندی بھوٹان (152 ویں)، پاکستان (158 ویں)، میانمار (169 ویں)، افغانستان (175 ویں) اور چین (178 ویں) سے بہتر ضرور ہے، لیکن تنزلی کا یہ سفر باعث تشویش ہے۔

میڈیا کا بدلا ہوا چہرہ

ہندوستانی میڈیا پر پچھلے چند برسوں سے واضح اثر انداز ہونے والے سیاسی دباؤ، معاشی وابستگی اور ادارتی بے اختیاری کے اثرات صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ کچھ ٹی وی چینلز اور نیوز پورٹلز نے اپنی ادارتی آزادی کو پس پشت ڈال کر یک طرفہ بیانیے کو ہوا دینا شروع کر دیا ہے۔ اس طرزِ عمل کی وجہ سے ’پالیسى نواز میڈیا‘ جیسی اصطلاحات عام ہو گئی ہیں، جو ان اداروں کے طرزِ رپورٹنگ کی ایک مہذب تنقید کہی جا سکتی ہے۔

یہ رجحان پہلگام حملے جیسے واقعات میں خاص طور پر نمایاں ہوتا ہے، جہاں میڈیا کا ایک طبقہ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے ترجمان کے طور پر سامنے آتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ عوام کو صحیح، غیر جانب دار معلومات فراہم کرے۔ یہاں تک کہ حکومت کو خود ایک ایڈوائزری جاری کرنی پڑی کہ میڈیا اپنے دائرے میں رہے۔

مباحثوں کے نام پر سنسنی اور تفریق

کچھ ٹی وی اینکرز نے ایسے مباحثوں کو فروغ دیا ہے جن میں عوامی مفاد کے بجائے تفریق، اشتعال اور غیر ضروری تناؤ پیدا کرنے والے موضوعات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ روزگار، تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے جیسے عوامی موضوعات سے توجہ ہٹا کر مذہبی تنازعات، سرحدی کشیدگی، یا اقلیتوں کے خلاف جذبات انگیزی کو مرکزی حیثیت دی جاتی ہے۔ یہ طریقہ کار نہ صرف صحافت کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

عالمی اداروں کی تنبیہ

رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کے مطابق، "بھارت میں میڈیا کی کثرت پسندی خطرے میں ہے، کیونکہ اس کی ملکیت چند طاقتور سیاسی و کارپوریٹ شخصیات کے ہاتھوں میں مرتکز ہو چکی ہے۔”

ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس پانچ بنیادوں پر ممالک کا جائزہ لیتا ہے: سیاسی، قانونی، سماجی، معاشی، اور تحفظاتی۔ اس سال کی رپورٹ میں ایڈیٹوریل ڈائریکٹر این بیکنڈے کا کہنا ہے کہ "معاشی آزادی کے بغیر آزاد میڈیا ممکن نہیں۔” جب ادارے مالی دباؤ کا شکار ہوں، تو وہ سنجیدہ صحافت کے بجائے عوامی توجہ حاصل کرنے والی غیر معیاری رپورٹنگ کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ 2014 میں وزیراعظم نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے بھارتی میڈیا ایک ’غیر اعلانیہ ایمرجنسی‘ جیسی صورتحال میں ہے۔ حکومت سے قریبی تعلقات رکھنے والے بڑے میڈیا گروپس نے اس آزاد میڈیا کو مزید کمزور کیا ہے۔

میڈیا کی اصل ذمہ داری

میڈیا کا کام حکومت کا ترجمان بننا نہیں بلکہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنا، سوال اٹھانا، اور جمہوری اقدار کو فروغ دینا ہے۔ جب صحافت اپنے اصل مشن سے ہٹ کر صرف طاقتوروں کی آواز بن جائے تو اس کے وقار، اثر اور اعتماد کو نقصان پہنچنا فطری ہے۔ ایسے میں عالمی سطح پر اس کی درجہ بندی میں گراوٹ آنا کوئی تعجب کی بات نہیں۔

اب بھی کچھ صحافی اور ادارے موجود ہیں جو دیانتداری، توازن، اور تحقیق پر مبنی رپورٹنگ کے اصولوں کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن ان کی تعداد محدود ہے۔ ایک صحتمند جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ ایسے اداروں اور افراد کو حمایت اور حوصلہ دیا جائے۔


(مضمون نگار روزنامہ انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)
📧 yameen@inquilab.com


اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مکمل طور پر مصنف کے ذاتی ہیں، جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ادارہ ان خیالات کی تائید یا مخالفت کا ذمہ دار نہیں ہے۔

Read more

Local News