موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

بنگلہ دیش کی سیاسی کشمکش: شیخ حسینہ کی عائد پابندیاں اور جائیداد ضبطی کا عمل

بنگلہ دیش کی عدالت نے شیخ حسینہ کے خلاف بڑا فیصلہ سنادیا

بنگلہ دیش کی عدالت نے گزشتہ روز ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جائیدادیں ضبط کرنے اور ان کے رشتہ داروں کے بینک کھاتے سیل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد ملک میں بدعنوانی کی روک تھام ہے اور اس کی بنیاد بدعنوانی مخالف کمیشن (اے سی سی) کی طرف سے دی گئی درخواست پر ہے۔ اس فیصلے کے تحت نہ صرف شیخ حسینہ بلکہ ان کے قریبی رشتہ داروں کے مالی اثاثے بھی سراغ لگا کر ضبط کیے جائیں گے۔

عدالت کی جانب سےروشن کی گئی تفصیلات کے مطابق ان کی رہائش گاہ ‘سدھا سدن’ اور 124 بینک کھاتے جن کا تعلق شیخ حسینہ کے خاندان سے ہے، ان کو سیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عدالت کے حکم پر عمل درآمد کرنے کی ذمہ داری مقامی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

شیخ حسینہ کی حکومت کی معزولی اور اس کے اثرات

اس واقعے کے پس منظر میں بنگلہ دیش میں پچھلے سال ہونے والے بڑے مظاہروں کو سمجھنا ضروری ہے۔ بنگلہ desh میں طلبا نے حکومت کے خلاف پرزور مظاہرے کیے تھے، جس کے نتیجے میں 15 سال تک حکمرانی کرنے والی شیخ حسینہ کی حکومت کو 5 اگست کو معزول ہونا پڑا۔ اس کے بعد ملک کے معیشت میں بگاڑ اور سیاسی عدم استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے محمد یونس نے عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالا۔

معزول وزیر اعظم کا بھارتی پناہ گزینی کا فیصلہ

شیخ حسینہ، جو اس وقت ہندوستان میں پناہ گزین ہیں، نے اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد اپنے مستقبل کے بارے میں کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ اگرچہ ان کی حکومت کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، لیکن ان کے حامیوں نے ان کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ حسینہ کے حامیوں کا موقف ہے کہ ان کے خلاف یہ تمام کارروائیاں ان کی سیاسی حیثیت کو کمزور کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

بدعنوانی کی روک تھام اور قانونی کارروائی

عدالت کے فیصلے کے مطابق، بدعنوانی مخالف کمیشن کے سامنے پیش کردہ شواہد کی بنیاد پر یہ حکم جاری کیا گیا ہے۔ اس عمل میں شیخ حسینہ کے بیٹے سازیب واجد جوائے، بیٹی صائمہ واجد پٹن، بہن شیخ ریحانہ اور دیگر رشتہ دار بھی شامل ہیں۔ ان کی جائیدادوں کا سراغ لگا کر ضبط کرنے کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ یہ کارروائی عوام کے سامنے عدالت کے نظام کی طاقت اور مستقل مزاجی کا مظہر بھی ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

اس صورتحال میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں شیخ حسینہ اور ان کے خاندان کے ارکان اس قانونی کارروائی کا کس طرح سامنا کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ اس وقت ہندوستان میں ہیں، لیکن بنگلہ دیش کے حالات کے اعتبار سے ان کی واپسی کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔

یہ تمام صورتحال عوامی جذبات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے اور اگر عوامی حمایت کو مدنظر نہ رکھا گیا تو اس کے نتائج ممکنہ طور پر سنگین ہو سکتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی سیاست میں اس واقعہ کے اثرات بہت دور تک جا سکتے ہیں۔

بین الاقوامی تناظر

بنگلہ دیش کی اس سیاسی صورتحال کو بین الاقوامی تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر کے ممالک خاص طور پر جنوبی ایشیاء کے ممالک اس بات کی نگرانی کر رہے ہیں کہ کیسے بنگلہ دیش میں سیاسی استحکام کو بحال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، بین الاقوامی برادری کی جانب سے انسانی حقوق کے مسائل پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔